صدارتی طرز کا انتخاب

Image caption کانگریس اس وقت قیادت کے سوال پر کنفیوژن اور کشمکش کا شکار ہے

بھارت میں پارلیمانی انتخابات میں ابھی کم از کم ایک برس باقی ہے لیکن وزیراعظم منموہن سنگھ کی موجودہ حکومت کی مبہم حالت دیکھ کر سبھی سیاسی جماعتیں کسی اچانک انتخاب کی تیاریوں میں لک گئی ہیں۔

حکمراں کانگریس کی سب سے اہم اتحادی نیشنلسٹ کانگریس نے سونیا گاندھی سے درخواست کی ہے کہ وہ سبھی اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلا کر آئندہ انتخابات کے لیے وزارت اعظمیٰ کے امیدوار کا اعلان کریں۔

بھارت میں پارلیمانی انتخابات میں سیاسی جماعتیں پارٹی کے منشور کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں اور انتخابات سے پہلے کسی امیدوار کے نام کا اعلان نہیں کیا جاتا تھا۔ یہ ضرور ہے کہ اندرا گاندھی ہوں یا راجیو گاندھی یا پھر اٹل بہاری واجپئی، سبھی کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ جیت کی صورت میں یہی رہنما وزیراعظم بنیں گے۔انتخابات کے بعد یہی رہنا باضابطہ طور پر منتخب کر لیے جاتے تھے۔

کانگریس اس وقت قیادت کے سوال پر کنفیوژن اور کشمکش کا شکار ہے۔ ایک طرف منموہن سنگھ دو بار وزیراعظم رہ چکے ہیں اور گزشتہ تین برس میں ان کی مقبولیت سب سے نچلی سطح پر آ چکی ہے۔ عوام میں ان کی حکومت سے زبردست بیزاری پائی جاتی ہے۔ دوسری جانب راہول گاندھی سیاست میں دس برس سے مسلسل متحرک رہنے کے باوجود عوام پر اپنا کوئی تاثر قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ان حالت میں کانگریس کے لیے ماضی کی طرح آئیڈیل صورتحال یہ ہوتی کہ وہ امیدوار کا اعلان کیے بغیر انتخاب میں اترتی اور اقتدار میں آنے کی صورت میں منموہن سنگھ کی طرح راہول کو وزیراعظم بنا دیتی لیکن نریندر مودی نے کانگریس کے لیے مشکلیں پیدا کر دی ہیں۔

مودی گجرات کے وزیراعلیٰ ہیں اور اگر سیاست کی بساط پر چالیں معمول کے مطابق چلتے تو بی جے پی کم از کم اس بار تو مودی کو وزارت عظمٰی کے لیے آگے نہ آنے دیتی۔ مودی نے گجرات میں اپنی کارکردگی اپنی پالیسیوں،اپنے بیانات اور میڈیا میں ہمیشہ غالب رہنے کی اپنی غیر معمولی صلاحیت سے بی جے پی کو مجبور کر دیا کہ وہ انہیں وزیراعظم کے طور پر انتخاب میں اتارنے کے لیے قبول کرے۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے ایک علاقائی رہمنا کو اپنا رہنما تسلیم کرنے کا کڑوا گھونٹ پینے میں وقت لیا ہے۔ لیکن یہ بی جے پی قیادت کی دانشمندی سے نہیں مودی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی غیر معمولی مقبولیت کے سبب ممکن ہوا ہے۔

Image caption بی جے پی قیادت کی دانشمندی سے نہیں مودی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی غیر معمولی مقبولیت کے سبب ممکن ہوا ہے

بھارت کی انتخابی تاریخ میں غالباً یہ پہلا موقع ہو گا جب انتخاب امیدوار کے زور پر لڑا جائے گا اور پارٹی پسِ منظر میں چلی جائے گی۔ چھوٹی چھوٹی جماعتیں اپنے اپنے امکانات کے مطابق دو میں سے کسی ایک امیدوار سے اپنی وابستگی قائم کر رہی ہیں۔

مودی نے انتخاب سے قبل دو مرحلوں میں سے ایک مرحلہ عبور کر لیا ہے۔ پارٹی کی مرکزی قیادت اور اپنی پارٹی سے انہوں نے اپنا قد اونچا کر لیا ہے۔ دوسرے مرحلے کا فیصلہ اتوار کو ہونا ہے۔ بی جے پی کی سب سے اہم اتحادی جنتا دل یونائٹڈ اگر اتوار کو اپنی سیاسی قرارداد میں واضح طور پر مودی کی مخالفت نہیں کرتی تو مودی وزارت اعظمیٰ سے اور بھی قریب ہو جائیں گے۔

مودی کی شکل میں زبردست چیلنج کے پیش نظر کانگریس کے سامنے اب کوئی اور چارہ باقی نہیں بچا ہے کہ وہ بھی اپنے امیدوار کا اعلان کرے۔یہ پہلا موقع ہو گا جب صدارتی طرز پر ملک کی دونوں جماعتوں کی طرف سے امیدوار سامنے ہونگے۔ ان کی پالیسیاں واضح ہونگی، ان کے ایجنڈے واضح ہونگے اور ان کے ذاتی خیالات اور شخصیت انتخابی مہم کا سب سے اہم پہلو ہونگے۔

بھارت کی جمہوریت اب فیصلہ کن اور صدارتی طرز حکومت میں داخل ہو رہی ہے ۔مودی نے انتخاب کا ایجنڈا پہلے ہی طے کر دیا ہے ۔

اسی بارے میں