بھارت:جرمن بیکری دھماکہ میں جرم ثابت

جرمن بیکری
Image caption دھماکے میں 17 افراد ہلاک اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کے پونے شہر میں واقع جرمن بیکری میں ہونے والے دھماکے کے لیے ایک مقامی عدالت نے ملزم مرزا حمایت بیگ کو مجرم قرار دیا ہے۔

انہیں 18 اپریل کو سزا سنائی جائے گی۔

واضح رہے کہ یہ دھماکہ 13 فروری سنہ 2010 میں پونے شہر کے کورے گاؤں پارک کے علاقے میں ہوا تھا جس میں 17 افراد ہلاک اور 60 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے جن میں پانچ غیر ملکی باشندے بھی شامل تھے۔

مہاراشٹر کے علاقے ادگير کے رہنے والے مرزا حمایت بیگ اس معاملے میں واحد ملزم ہیں جن کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

انہیں سات ستمبر 2010 کو پونے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کلعدم تنظیم کے رکن ہیں۔

پولیس کے مطابق ان کے گھر سے مبینہ طور پر 12 سو کلوگرام دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا تھا۔

حمایت بیگ کے وکیل اے رحمان نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔

اے رحمان کے مطابق جس طرح کے گواہان عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ان کے تئیں ججوں نے بہت زیادہ اطمینان کا اظہار نہیں کیا۔

ادھر استغاثہ کے وکیل راجہ ٹھاکرے سے جب ریاض بھٹكل اور دیگر فرار ملزمان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ممبئی میں بی بی سی کے نامہ نگار سے کہا کہ’یہ پولیس کا کام ہے اور وہ اپنا کام کر رہی ہے۔ پورا ملک چاہتا ہے کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو۔‘

عدالت میں دائر فرد جرم میں جن پانچ دیگر ملزمان کے نام شامل ہیں۔ ان میں محسن چودھری، یاسین بھٹكل، ریاض بھٹكل، اقبال بھٹكل اور فياض کاغذی شامل ہیں اور یہ سب مفرور ہیں۔

استغاثہ کے مطابق اس واقعہ کی سازش 2008 میں سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں تیار کی گئی جہاں حمایت بیگ کو بم بنانے کی تربیت دی گئی۔

پولیس کے مطابق بیگ نے ادگير میں اپنے سائبر کیفے میں اس بم کو تیار کیا تھا۔

دوسری جانب دفاع کا کہنا ہے کہ پونے میں جب دھماکہ ہوا تو اس دوران بیگ پونے کے بجائے اورنگ آباد میں تھے۔

واضح رہے کہ جرمن بیکری مقامی اور غیر ملکی افراد کے درمیان کافی مقبول تھی اور یہ اوشو کے آشرم کے نزدیک واقع ہے جہاں غیر ملکیوں کی آمدو رفت رہتی ہے۔

اسی بارے میں