سونے کی محبت: ڈھائی لاکھ ڈالر کی قمیض

سونے کی قمیض
Image caption بھارت میں سونے کے تئیں محبت کی علامت ہے سونے کی یہ قمیض

بھارت کے مغربی شہر پونے کے ایک شہری دتّہ پھوگے کی انگلیاں، ان کاگلا اور كلائیاں سونے کے زیورات سے مزین ہیں۔ لیکن ان کے جسم پر جو سب سے زیادہ چمكنے والی چیز ہے، وہ ہے ان کی سونے کی قمیض۔

تقریباًً تین کلو تین سو گرام سونے سے بنی یہ دنیا کی سب سے مہنگی قمیض ہے۔ اس کی قیمت ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر یا تقریباً ایک کروڑ 39 لاکھ بھارتی روپے ہے۔

بھارت میں سونے کے تیئیں پائی جانے والی محبت کی یہ ایک بہترین مثال ہے۔ سونے سے اپنی محبت کی وجہ سے دتّہ پھوگے ’گولڈ مین‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔

اسے غیر معمولی یا فضول خرچ فیشن کہا جا سکتا ہے۔ لیکن پھوگے کے لیے یہ اہم ہے۔

وہ کہتے ہیں ’کچھ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں اتنا زیادہ سونا کیوں پہنتا ہوں۔ یہ میرا خواب تھا۔ لوگوں کی الگ الگ خواہشیں ہوتی ہیں۔ بعض امیر آڈي یا مرسڈيز کار خریدنا چاہتے ہیں اور خرید بھی لیتے ہیں۔ میں نے سونے کو منتخب کیا۔‘

ایسا نہیں ہے کہ دتّہ پھوگے کے پاس کار نہیں ہے، ان کے پاس پانچ کاریں ہیں۔ وہ سونے کی اس خاص قمیض کو صرف پارٹیوں اور کچھ دیگر اہم مواقع پر ہی پہنتے ہیں۔ لیکن جب وہ اسے پہن کر چلتے ہیں تو ان کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کا ایک دستہ بھی چلتا ہے۔

ان کی اس پوشاک پر لوگوں خیالات منقسم ہیں۔ بعض اس سے متاثر ہوتے ہیں تو بعضے اس پر منھ بناتے ہیں اور اسے فضول خرچی سے تعبیر کرتے ہیں۔

پونے میں زیورات کی 133 سال پرانی دکان رتناكر جویلرس کے تیج پال رتناكر کہتے ہیں: ’ہمارے سامنے چیلنج اس بات کا تھا کہ سونے کی اس شرٹ کو ایک عام قمیض کی طرح پہننے میں آرام دہ بنایا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایک بار جب انہوں نے اس شرٹ کو بنانے کا فیصلہ کر لیا تو پھر اس کے ڈیزائن اور پیٹرن پر انھوں نے تحقیق شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے اسے پہن کر سونے کی شال پہننے جیسا احساس ہو۔

رتناكر اور زرگروں کی ان کی ٹیم نے ایک خاص مشین کے ذریعے اطالوی بنائی کی طرز پر سونے کا کپڑا بنانے کا فیصلہ کیا۔

Image caption سونے کی قمیض میں تین کلو سے زیادہ سونا لگا ہے اور اس کے نیچے مخمل لگایا گیا ہے

اس کا خیال انہیں ہندوستانی بادشاہوں کے زرہ بکتر والے لباس کی تصاویر کو دیکھنے کے بعد آیا۔ جسم کو کسی قسم کی خراش سے بچانے کے لیے انہوں نے اس کے نیچے مخمل کا استر دیا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار رجنی ویدیاناتھن نے بھی جب اس قمیض کو دیکھا تو محسوس کیا کہ یہ پہننے میں وزنی اور تھوڑی تنگ ہے۔

اسے دھویا نہیں جا سکتا اس لیے اسے احتیاط سے پہننے کی ضرورت ہے تاکہ اسے گندے ہونے اور پسینے سے بچایا جا سکے حالانکہ بھارت کے موسم گرما میں پسینہ سے بچا پانا کافی دقت طلب امر ہے۔

پھوگے کہتے ہیں کہ اسے زیب تن کرنے میں انہیں کافی مزہ آتا ہے اور انھیں یہ انتہائی کامیابی کا احساس دلاتا ہے۔ انھیں سماج میں وہ رتبہ دلاتا ہے جس کی انھیں نوجوانی سے خواہش تھی۔

وہ کہتے ہیں ’جب میں کالج میں تھا تو لوگ کہتے تھے کہ اگر آپ بڑے خاندان سے ہیں تو آپ کو سونا پہننا چاہیے۔ اس لیے 20 برس کی عمر میں میں نے سونا پہننا شروع کر دیا۔اس وقت کم مقدار میں 10-15 گرام سونا پہنتا تھا۔‘

پھوگے کا تعلق کسی امیر کبیر خاندان سے نہیں ہے بلکہ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ املاک یا پراپرٹي کے کاروبار میں انہیں خاصی کامیابی ملی۔ اس کے بعد انھوں نے پونے کے قریب واقع قصبے پمپري چنچواڑ میں سود ی کاروبار شروع کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر چھ یا آٹھ ماہ میں جب بھی ان کی کمپنی کو اچھا منافع ہوتا تو وہ سونے سے بنی کوئی نہ کوئی چیز خرید لیتے تھے۔ اب وہ جو چیز خریدنا چاہتے ہیں، وہ ہے مکمل طور پر سونے سے بنا موبائل اور شاید سونے سے بنے جوتے کا ایک جوڑا۔

تاہم بعض خبروں میں کہا گیا تھا کہ پھوگے نےخواتین کو لبھانے کے لیے یہ قمیض بنوائی ہے۔ لیکن وہ اپنی بیوی سیما کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

سیما سرکاری ملازمت کرتی ہیں اور قیمتی دھاتوں میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ پھوگے بتاتے ہیں کہ سیما کے پاس قریب آدھا کلو سونا ہے۔ ان کے لیے میں نے سونے کے ہار اور بیگ خریدے ہیں۔

پھوگے یہ بھی جانتے ہیں کہ سونے میں سرمایہ کاری کا مطلب کیا ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’اگر ضرورت پڑی تو میں قمیض کو فروخت کر کے پیسے بھی لے سکتا ہوں۔‘

دتّہ پھوگے ان لاکھوں کروڑوں ہندوستانیوں میں سے ایک ہیں جنہیں سونے سے پیار ہے۔ دنیا میں سونے کی کھپت سب سے زیادہ بھارت میں ہوتی ہے۔

Image caption بھارت میں سونے کے بسکٹ اور بار رکھنے کا بھی چلن بڑھا ہے

مالی معاملات کا تجزیہ کرنے والی کمپنی، انڈیا انفو لائن کے راجیو مہتا کہتے ہیں: ’ہر ہندوستانی سونا استعمال کر رہا ہے۔ یہ حیثیت یا دولت کی علامت بن گیا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ سونے کے زیورات کا مظاہرہ کر نے میں مسابقت رکھتے ہیں یا نمائش کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

بھارت میں ہندو دیوی لکشمی کی سونے کی مورت کو مبارک سمجھا جاتا ہے اس کے علاوہ ہندو دیوی دیوتاؤں اور مندروں کو سونے سے سجایا جاتا ہے اور شادی بیاہ میں تحفے میں دیا جاتا ہے۔

مہتا کا کہنا ہے کہ بھارت میں 18 ہزار ٹن سونا ہے اور اس کا دو تہائی حصہ گاؤں میں ہے۔ ایسے لاکھوں افراد جن کے پاس کسی بینک میں اکاؤنٹ نہیں ہیں، ان کے لیے سونے میں سرمایہ کاری ایک اچھا راستہ ہے۔

تیج پال رتناكر بتاتے ہیں کہ لوگ سونے کے ہینڈ بیگ اور بیلٹ کی فرمائش کر رہے ہیں۔ سونے کی چھڑیں خریدنے والے ہندوستانیوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

سونے کے پانی سے قلعی کرنے والے ممبئی کے ایک اسٹوڈیو کے شہزاد خان کہتے ہیں، ’بھارت میں چوبس كیرٹ سونے کے پانی سے قلعی کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں ان کے ایک گاہک نے انھیں اپنے بیت الخلا میں سونے کی قلعی کرنے کی فرمائش کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کے عالیشان گھر کی سیڑھیوں پر بھی سونے کی قلعی کرنے کو کہا گیا ہے۔

اسی بارے میں