گوا: پلے بوائے کلب کھولنے کی اجازت نہیں

Image caption پلے بوائے سے متعلق بہت سی اشیاء بھارت میں ملتی ہیں

بھارتی ریاست گوا کی حکومت نے بالغوں کے لیے تفریح کی معروف امریکی کمپنی ’پلے بوائے‘ کو شہر میں کلب کھولنے کے لیے اجازت دینے سے انکار کیا ہے۔

گوا کے وزیر اعلیٰ منوہر پاریكر نے کہا ہے کہ پلےبوائے کلب کھولنے کی تجویز کے متعلق ان کی حکومت ’تکنیکی بنیاد‘' پر غور نہیں کرے گی۔

پلے بوائے کمپنی نے شمالی گوا کے كونڈولم نامی ساحل پر کلب کھولنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ بھارت میں فحاشی سے متعلق قوانین کے تحت پلے بوائے سمیت دیگر جنسی رسالے بہت محدود ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ گوا میں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ہے اور پلے بوائے کلب کے متعلق پارٹی کے اندر خدشات پائے جاتے ہیں اس لیے کلب کھولنے کی تجویز کو مسترد کیا گیا ہے۔

لیکن ریاست کے وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر نے اس سے متعلق سوالات کے جوابات میں اس تنازع سےگریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ بیرونی کمپنیوں کو اس طرح کی اجازت دینے میں قانونی پیچیدگياں رخنہ بنتی ہیں۔

پلے بوائے برانڈ کا حق حاصل کرنے والی بھارتی کمپنی پي بي لائف سٹائل کا منصوبہ ہے کہ وہ آئندہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں آٹھ پلے بوائے کلب کھولے گي۔

کمپنی آئندہ دس برسوں کے دوران ملک بھر میں ایسے تقریباً ایک سو بیس کلب، بارز اور کیفے کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تاہم کمپنی نے تازہ واقعات پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بی جے پی کے رکن اسمبلی مائیکل فلوئیڈ نے الزام لگایا ہے کہ پلے بوائے کلب ’فحاشی‘ کو فروغ دےگا اور انہوں نے کلب کھولنے کی مخالفت میں بھوک ہڑتال پر جانے کی دھمکی بھی دی تھی۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے گوا کے وزیرِ سیاحت دلیپ پارلیكر کے حوالے سے کہا ہے کہ پلے بوائےکلب کو اجازت دینے پر ’فحاشی کو فروغ ملنے‘ کے متعلق کافی بحث ہو رہی تھی۔

پلے بوائے جیسی جنسی میگزین پر بھارت میں پابندی عائد ہے لیکن پھر بھی یہ چوری چھپے دستیاب ہوتی ہے۔ گزشتہ سال بالی وڈ کی اداکارہ شیرلن چوپڑا نے پلے بوائے کے لیے برہنہ تصاویر كھنچوائی تھیں اور وہ ایسا کرنے والی پہلی بھارتی خاتون بن گئیں تھیں۔

اسی بارے میں