بھارتی رہنما نے لیکچر کا بائیکاٹ کر دیا

اکھلیش یادو
Image caption اکھلیش یادو کے دور حکومت میں اتر پردیش میں مہاکمبھ کا انعقاد ہوا

بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے امریکہ کی معروف ہارورڈ یونیورسٹی میں اپنے لیکچر کا بائیکاٹ کر دیا ہے۔

انھوں نے اس لیکچر کا بائیکاٹ اپنی کابینہ کے اہم ترین وزراء میں سے ایک اعظم خان کو بوسٹن ہوائی اڈے پر تفتیش کے لیے روکے جانے کے خلاف کیا۔

واضح رہے کہ وزیر اعلی اکھلیش یادو صرف اسی لیکچر کے لیے امریکہ گئے تھے اور انہیں مہا کمبھ میلے کے کامیاب انعقاد پر لکچر دینا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ مہا کمبھ روئے زمین پر اب تک کا سب سے بڑا اجتماع ہے جو ہر بارہ سال کے بعد منایا جاتا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے ذرائع نے بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ اکھلیش یادو کے ساتھ وفد میں گئے کسی بھی رہنما نے یونیورسٹی کے کسی بھی پروگرام میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہری ترقی کے وزیر اور سماج وادی پارٹی کے سینیئر رہنما اعظم خان بھی اکھلیش یادو کے ہمراہ امریکہ دورے پر ہیں۔

Image caption اعظم خان موجودہ اترپردیش حکومت کے اہم ترین رہنماؤں میں شامل ہیں

بوسٹن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر برٹش ایئرویز کی پرواز سے اترنے کے بعد اعظم خان کو قریب 10 منٹ تک علیحدہ سے پوچھ گچھ کے لیے روک دیا گیا تھا۔

اعظم خان کے انفارمیشن افسر کی جانب سے گزشتہ رات جاری کیے گئے میں کہا گیا ہے کہ سفارتی پاسپورٹ ہونے کے باوجود ایئرپورٹ پر ہوئی ذلت سے اعظم خان کو صدمہ پہنچا۔

اس واقعہ کے خلاف بطور احتجاج انہوں نے مقررہ پروگرام سے ایک روز قبل ہی بھارت لوٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اعظم خان کا کہنا ہے کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے پریشان اور بے عزت کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بھی بھارت کی کئی معروف سخصیات کو امریکی ہوائی اڈے پر روکے جانے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

اسی بارے میں