بھارتی کرتب باز کی کرتب کے دوران موت

سٹنٹ مین
Image caption سٹنٹ مین شیلندر رائے اپنے بالوں کے ذریعے کرتب دکھاتے تھے

گنیز ورلڈ ریکارڈ اعزاز یافتہ اور اپنے بالوں کے ذریعے مختلف قسم کے کرتب دکھانے والے بھارتی کرتب باز کی ایک کرتب کے دوران موت ہو گئی ہے۔

سٹنٹ مین شیلندر رائے بھارت کی شمال مشرقی ریاست مغربی بنگال میں تیستا ندی کو پار کر رہے تھے جب انھیں دل کا دورہ پڑا۔

وہ اپنے بالوں کے ذریعے ایک تار سے معلق ہو کر ندی عبور کرنے کا کرتب دکھا رہے تھے۔

انھیں مارچ 2011 میں زپ وائر پر اپنے بالوں کے ذریعے سب سے زیادہ مسافت طے کرنے کے لیے گنیز ورلڈ ریکارڈ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

وہ پولیس میں ڈرائیور کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔

شیلندر رائے اتوار کو مغربی بنگال کے شہر سلیگوری میں ’کورونیشن برج‘ کے پاس تیستا ندی پر 70 فٹ کی اونچائی پر بال کے ذریعے معلق ہوکر 600 فٹ لمبے تار پر دریا عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے اس کارنامے کو دیکھنے کے لیے کثیر تعداد میں لوگ جمع تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 300 فیٹ کا فاصلہ عبور کرنے کے بعد وہ آگے نہ جا سکے۔

وہاں موجود شائقین نے پہلے تو شیلندر رائے کی حوصلہ افزائی کی لیکن انھیں زندگی اور موت کے درمیان جھولتا دیکھ کر ان کی چیخیں نکل گئی۔

ان کے کرتب کو اپنے کیمرے میں قید کرنے آئے مقامی فوٹوگرافرر بلائی سوتردھار نے کہا ’وہ آگے جانے کی بے تحاشا کوشش کر رہے تھے، اور چیخ چیخ کر کچھ ہدایات دینے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن کوئی نہیں سمجھ پایا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ 30 منٹ تک جدوجہد کرنے کے بعد وہ ساکت ہو گئے۔‘

پولیس کا کہنا ہے زمین پر اتارے جانے سے قبل وہ 45 منٹ تک لٹکتے رہے تھے۔ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد کہا کہ انھیں ’دل کا زبردست دورہ‘ پڑا تھا۔

Image caption شیلندر نے 2008 میں ٹوائے ٹرین اپنے بالوں سے کھینی تھی

شیلندر رائے اتوار کی صبح ندی کے کنارے پہنچ گئے تھے اور انھوں نے اپنے دوستوں کی مدد سے وہاں رسی لگائی تھی۔ وہ لائف جیکٹ پہنے ہوئے تھے لیکن وہاں نہ تو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی سہولیات موجود تھیں اور نہ ہی کوئی ڈاکٹر تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شیلندر رائے نے اس کرتب کے لیے اجازت نامہ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔

رائے کے ایک ساتھی نے کہا: ’ان کی بیوی ان سے اس خطرناک کام کو چھوڑ دینے کے لیے کہتی رہتی تھی۔ رائے نے ان سے کہا تھا کہ تیستا ندی کو پار کرنا ان کا آخری کرتب ہو گا۔ بدقسمتی سے یہ ان کا آخری کرتب ثابت ہوا۔‘

انھوں نے 2008 میں دارجلنگ کی معروف ٹوائے ٹرین کو اپنے بالوں سے باندھ کر کھینچا تھا۔ اس وقت انھوں نے بی بی سی سے کہا تھا کہ ان کا اگلا منصوبہ ہیلی کاپٹر سے بالوں کے ذریعے لٹکنے کا ہے۔

اس سے قبل 2007 میں انھوں نے اپنے بالوں کو رسی سے باندھ کر ایک عمارت سے دوسری عمارت میں جانے کا کرتب دکھایا تھا۔

اسی بارے میں