قیدیوں کے ساتھ سلوک غیر مہذب سلوک

Image caption بھارتی جیل میں قید پاکستانی شہری ثنا اللہ حملے میں شدید زخمی ہوئے ہیں

سربجیت سنگھ نے اپنے قتل سے پہلے پاکستان اور بھارت کے حکام کو لکھےگئے کئی خطوط میں یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اجمل قصاب اور افضل گرو کی پھانسی کے بعد جیل میں اسے قتل کیا جا سکتا ہے۔

اس خطرے سے جیل حکام بھی اچھی طرح باخبر تھے لیکن پھر بھی سربجیت کے قتل کو ٹالا نہ جا سکا۔

سربجیت سے پہلے جنوری میں بھی لاہور کی اسی جیل میں ایک بھارتی قیدی کی پراسرارحالت میں موت ہوئی تھی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹس سے یہ ہی نتیجہ اخذ کیا کیا گیا تھا کہ اس قیدی کی موت بھی جسمانی چوٹوں سے ہوئی تھی۔

لیکن سربجیت کی طرح اسے نہ تو ’شہید‘ کا درجہ دیا گیا اور نہ ہی ٹی وی اور اخبارات نے جرنیل سنگھ کی ہلاکت پر کوئی واویلہ مچایا۔

جس دن سربجیت پر جیل میں حملہ کیا گیا تھا اسی روز دہلی کے نواحی علاقے میں ایک پولیس سٹیشن کے لاک اپ میں ایک مشتبہ شخص لٹکا ہوا مردہ پایا گیا۔ اسی طرح دسمبر کے بہمیانہ ریپ کے ایک ملزم کو بھی دہلی کی تہاڑ جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔ جیل میں ایک دوسرے ملزم کے ہاتھ پاؤں توڑ دیے گئے تھے۔

کچھ عرصے پہلے پونے کے ایک بم دھماکے میں ملوث ہونے کے شک میں بہار کے ایک نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ابھی تفتیش چل ہی رہی تھی اور چارج شیٹ بھی فائل نہیں کی گئی تھی کہ حب الوطنی سے سرشار ایک قیدی نے اس نوجوان کی زندگی ختم کر دی۔اس خبر پر کسی نے توجہ بھی نہیں دی۔

جس وقت سربجیت کی آخری رسوم کی تیاریاں ہو رہی تھیں، جمعہ کو اسی وقت جموں کی جیل میں ایک پاکستانی قیدی پر سربجیت کے ہی انداز میں حملہ کیا گیا۔ قیدی کی حالت بدستور نازک بیان کی جا رہی ہے اور ڈاکٹر انہیں بچانے کے لیے دن رات کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن سر کی چوٹ بہت گہری ہے۔

جیلوں میں قیدیوں پر حملے، قتل اور پراسرارحالات میں موت کے واقعات میں پچھلے کچھ عرصے میں اضافہ ہوا ہے۔ ابھی جمعہ کو بھی دہلی کی تہاڑ جیل میں جاوید نام کے ایک قیدی حکام کے دعوے کے مطابق دوسرے قیدیوں کے حملے میں مارے گئے۔ جیل حکام کے مطابق یہ واقعہ قیدیوں کی لڑائی کا معمول کا وا‏قعہ تھا۔

دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے قیدیوں پر جیلوں میں اکثر پراسرارنوعیت کے حملے ہوتے رہے ہیں۔

سربجیت کی موت پر اگرچہ سیاست کا بازار گرم ہے جو زیادہ دیر نہیں چل سکے گا لیکن جو بات اہم ہے وہ یہ کہ دونوں ملکوں میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ مہذب ملکوں کے انسانی اور دستوری تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اگر یہ ذہن وخیال تیار کرنے کی کوشش جاتی ہے کہ یہ قیدی چونکہ محتلف جرائم اور بعض دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث تھے اس لیے ان کے ساتھ ہر طرح کا غیر انسانی برتاؤ جائز ہے تو یہ ایک انتہائی مذموم اور خطرناک روش ہے۔

جمہوری معاشروں میں قانون اور دستور کی بالادستی اور حکمرانی ہوتی ہے جس میں ہر شخص کو مساوی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ خطرناک جرائم کے مرتکب قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں۔جیلوں میں قیدیوں پر حملے کرنے اور انہیں موت کےگھاٹ اتارنے سے جمہوری اور دستوری اصولوں کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔

اسی بارے میں