بھارت: بیت الخلاء کی کمی ریپ کا سبب

بھارت
Image caption کئی عالمی صحت تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق دیہی بہار میں 85 فیصد گھروں میں بیت الخلا نہیں ہے

بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں پولیس اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بیت الخلاء کی کمی کے سبب میدانوں اور کھیتوں میں رفع حاجت کے لیے جانے والی خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں۔

حکام کے مطابق ایسے واقعات یا تو صبح سویرے یا دیر شام کو ہوتے ہیں جب خواتین اور لڑکیاں کھیتوں میں رفع حاجت کے لیے جاتی ہیں۔

صحت کے شعبے میں کام کرنے والے ایک ادارے کی جانب سے کیے گئے سروے میں یہ چشم کشا حقیقت سامنے آئی ہے کہ دیہی بہار میں تقریباً 85 فیصد گھروں میں بیت الخلا نہیں ہے۔

اس سروے کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے 49 فیصد لوگ خواتین کی سیکورٹی کے پیش نظر اپنے گھروں میں بیت الخلاء بنوانا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں اپنے گھروں کے باہر کھیتوں، کھلیانوں، باغ باغیچوں میں رفع حاجت کے لیے جانے والی لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ عصمت دری کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔

ایک سینئر پولیس افسر کے مطابق ان میں سے زیادہ تر معاملات کے بارے میں شکایت درج نہیں کروائی جاتی۔

گزشتہ 28 اپریل کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے 35 کلو میٹر دور كالاپور گاؤں میں رفع حاجت کے لیے کھیت جاتی ایک نوجوان لڑکی کو اغوا کر کے اس کے ساتھ ریپ کیا گیا۔

پولیس نے اس معاملے میں متاثرہ لڑکی کی شکایت درج کی جس میں لکھا گیا کہ ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی کی گئی اور اس کا ریپ کیا گيا۔

اسی طرح دو ہفتے قبل 24 اپریل کو شیخ پورہ ضلع کے چونّيا گاؤں میں ایک نو جوان لڑکی کے ساتھ کھیت میں مبینہ طور پر عصمت دری کا معاملہ پیش آیا ہے۔

اسی سال جنوری میں رہتا پانن گاؤں میں ایک بچی کے ساتھ اس وقت مبینہ طور پر اجتماعی ریپ کیا گیا جب وہ رفع حاجت کے لیے ذرا دور نکل گئی تھی۔

ریپ کا شکار اس لڑکی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کے ساتھ جنسی تششد کرنے والے دو لڑکے تھے جو اسے پاس کی ایک جھونپڑی میں لے گئے اور اس بچی کے ساتھ ریپ کیاگيا۔

ایک سینئر پولیس افسر اروند پانڈے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ نہ صرف کھلے میدانوں اور کھیتوں میں رفع حاجت کو جانے والی خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، بلکہ ریپ کے معاملے ماہ بہ ماہ زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔

Image caption کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کی اکثریت بہار کے دیہی علاقوں میں بستی ہے

ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ 2012 میں تقریبا 400 خواتین اور دوشیزاؤں کے گھروں میں اگر بیت الخلاء ہوتا، تو وہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے سے بچ سکتی تھیں۔

بہار میں سال 2012 میں ریپ کے 872 کیس درج کیےگئے اور اگر گزشتہ پانچ سالوں کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو اوسطا 980 ریپ کے معاملے درج کیے گئے ہیں۔

سماجی کارکن انیش انکر کا کہنا ہے: ’میں یہ کہوں گا کہ دیہی بہار میں زیادہ تر عصمت دری کے واقعات ان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو کھلے میں رفع حاجت کے لیے مجبور ہیں۔ ان میں سے تقریباً 40 سے 50 فیصد کیس صبح سویرے یا شام کے وقت ہوتے ہیں۔‘

انیش انکر کا یہ بھی کہنا ہے کہ بدنامی اور کلنک کے خوف سے زیادہ تر معاملات کی رپورٹ پولیس تھانے میں درج نہیں کروائی جاتی۔

وہیں سماجی کارکن شری کانت کا کہنا ہے: ’دنیا میں جتنے بھی لوگ کھلے میں پاخانہ جاتے ہیں، ان میں سے زیادہ تر بھارت میں رہتے ہیں۔ بہار اس معاملے میں اول درجے پر ہے۔‘