ثناءاللہ کی میت بھارت سے پاکستان پہنچ گئی

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی جیل میں ساتھی قیدی کے تشدد کا نشانہ بننے کے بعد انتقال کر جانے والے پاکستانی قیدی ثناءاللہ کی میت پاکستان کے شہر سیالکوٹ پہنچا دی گئی ہے۔

بھارت کے شہر چندی گڑھ میں ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ

جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں قید پاکستانی شہری ثناءاللہ پر کچھ قیدیوں نے تین مئی کو جان لیوا حملہ کیا تھا جس کے بعد انہیں ایئر ایمبولنس کے ذریعے چندی گڑھ کے ہسپتال پی جے ایم آر منتقل کر دیا گیا جہاں وہ جمعرات کی صبح چل بسے تھے۔

واضح رہے کہ بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی موت کے ایک دن بعد ثناءاللہ پر یہ حملہ ہوا۔ سربجیت پر 26 اپریل کو لاہور کی جیل میں چھ قیدیوں نے وحشیانہ حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں آئی چوٹوں کی وجہ سے وہ کوما میں چلے گئے تھے اور دو مئی کو ان کی موت ہو گئی تھی۔

ڈاکٹروں کے مطابق باون سالہ ثناءاللہ کوما میں تھے اور پھیپڑوں کے بعد ان کے گردوں نے بھی کام کرنا بند کر دیا تھا۔ انہوں نے صبح تقریباً ساڑھے پانچ بجے آخری سانسیں لیں۔

منگل کو ہی ثنااللہ کے برادرِ نسبتی محمد شہزاد اور بھانجے محمد آصف نے چندی گڑھ میں ان کی عیادت کے بعد مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’جس حال میں بھی ہیں انہیں پاکستان واپس بھیج دیا جائے۔‘

ثناءاللہ کی موت کے بعد بھارتی وزیرِ داخلہ سشیل کمار شندے نے ان کی میت پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا اور پاکستان سے ایک خصوصی طیارہ ان کی میت لینے کے لیے جمعرات کی شام بھارت آیا تھا۔

ادھر ثناءاللہ کی موت کے بعد پاکستان میں مارے گئے بھارتی قیدی سربجیت سنگھ کی بہن دلبير کور نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کی جیلوں میں بند پاکستانی قیدیوں کی حفاظت یقینی بنائے۔

بی بی سی ہندی سے بات چیت کے دوران دلبير کور نے کہا ’ثناءاللہ کی موت کی خبر سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ ایسا لگا کہ میں دوسری بار سربجیت کی موت کی خبر سن رہی ہوں۔‘

ثناءاللہ انیس سو ننانوے سے جموں کی جیل میں تھے۔ انہیں کشمیر میں عسکریت پسندی میں ملوث ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ان کی پاکستان واپسی کے لیے ایک بھارتی سیاستدان نے سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا لیکن بدھ کو اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ سزا پوری کرنے سے پہلے ثنااللہ کو واپس نہیں بھیجا جاسکتا۔

اسی بارے میں