کشمیر: پاکستانی قیدی کی موت پر تشویش

Image caption ثناءاللہ پر حملے کی سرکاری سطح پر تحقیقات ہو رہی ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے عوامی اور سیاسی حلقے پاکستان اور بھارت کی جیلوں میں سربجیت سنگھ اور ثناءللہ کا ساتھی قیدیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے کو دونوں ملکوں کے درمیان ’سرد جنگ‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔

ُادھر کشمیر کے علیحدگی پسندوں نے ان واقعات کو سازش قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستانی جیل میں بھارتی جاسوس سربجیت سنگھ کی ساتھی قیدیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے چند روز بعد بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی کوٹ بھلوال جیل میں پاکستانی قیدی ثناءاللہ کو ساتھی قیدی نے زخمی کر دیا تھا۔

ایک ہفتے تک کوما میں رہنے کے بعد وہ بدھ کے روز بھارتی شہر چندی گڑھ کے ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

پاکستان کے علاقے سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے قیدی ثناءاللہ پر حملے کی سرکاری سطح پر تحقیقات ہو رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کا کہنا ہے کہ ’میں اس بارے میں کچھ نہیں کہوں گا۔ میں نے شوپیاں ریپ کیس کے بارے میں ابتدائی تفتیش کی تفصیل پریس کو بتائی تو مجھے کئی ماہ تک بھگتنا پڑا‘۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ثناءللہ کی لاش کو سفارتی آداب کے ساتھ پاکستان کے سپرد کیا جائے گا۔ ان پر حملہ کرنے والے ونود کمار کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ سابق بھارتی فوجی ہیں جو چھ سال قبل لداخ میں اپنے ساتھی کے قتل کے الزام میں گرفتار ہوئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ثناءاللہ دراصل اُنیس سو چورانوے میں غیرقانونی طور پر لائن آف کنٹرول عبور کر کے بھارت کے زیرانتطام کشمیر آئے اور یہاں عسکری مزاحمت میں شامل ہو گئے۔

انہیں ایک پولیس آپریشن کے دوران جموں کے رام سو قصبہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ سترہ برس سے قید تھے اور ان پر دہشت گردی کے آٹھ واقعات میں مقدمات درج تھے جن میں سے دو معاملات میں انہیں عدالت نے عمرقید کی سزا سنائی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ بھارت کی مختلف جیلوں میں دو سو سے زائد پاکستانی قیدی ہیں۔ جبکہ جموں کشمیر میں بانوے پاکستانی شہری مختلف الزامات کے تحت قید ہیں۔

انسانی حقوق کے بعض اداروں کا کہنا ہے کہ سربجیت سنگھ کی پاکستانی جیل میں ساتھی قیدیوں کے ہاتھوں موت کے بعد کشمیر کی جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

حریت کانفرنس(گ) کے رہنما سید علی گیلانی نے بی بی سی کو بتایا’حکومت ہند کی ایجنسیاں اب قیدیوں میں مسلم مخالف جذبات بھڑکا رہی ہیں۔ ثناءاللہ کو سربجیت کی موت کا بدلہ چکانے کے لیے ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا‘۔

سید علی گیلانی، یاسین ملک، شبیر شاہ اور میرواعظ عمرفاروق نے اپنے الگ الگ بیانات میں سربجیت سنگھ اور ثناءللہ پر قاتلانہ حملوں کی مذمت کی ہے۔

مسٹر گیلانی نے پاکستان کے نگراں وزیراعظم اور بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کو ایک یکساں خط ارسال کیا ہے جس میں کشمیری اور دونوں ملکوں کے قیدیوں کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں