ناکام قیادت، بے عمل حکومت

Image caption وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نو برس پہلے جب پہلی بار حکومت سنبھالی تھی تو اس وقت ان کی شبیہ ایک ایماندار شخص کی تھی

پارلیمنٹ کا تقریباً ایک پورا اجلاس ضائع کرنے کے بعد انتہائی بے بسی کے عالم میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بالآخر اپنے دو اعلیٰ وزیروں کو بر طرف کر ہی دیا ہے۔ وزیرِ قانون پر الزام تھا کہ کوئلہ کانوں کی نیلامی میں جو گھپلہ ہوا تھا اس کی تفتیش کی سی بی آئی کی رپورٹ میں انہوں نے اہم تبدیلیاں کی تھیں ۔ وہ اس معاملے میں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔

اسی طرح ریلوے کے وزیر کے بھانجے ریلوے کے سب سے اہم شعبے ریونیو بورڈ میں ایک اہلکار کی تقرری کے لیے مبینہ طور پر دس کروڑ روپے کی رشوت لیتے وقت گرفتار کیے گئے ۔ سی بی آئی اب یہ تفتیش کر رہی ہے کہ اس معاملے میں وزیر موصوف کا کیا رول تھا۔

یہ دونوں وزرا منموہن سنگھ سے بہت قریب تھے اور بدعنوانی کے معاملات میں ان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے اور ان کی برطرفی کے بعد اب حزب اختلاف یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ خود وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔

منموہن سنگھ کی موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ مدت میں سے چار سال پورے کر چکی ہے اور یہ چار برس بھارت کی تاریخ میں شاید بد ترین بد عنوانیوں کے لیے یاد کیے جائیں گے۔ گزرے ہوئے چار برس میں نہ صرف یہ کہ حکومت پوری طرح بے عمل اور مفلوج رہی بلکہ وقفے وقفے پر اربوں روپے کے نت نئے گھپلوں کے انکشاف سے خود کو ہی نہیں بلکہ ملک کو بھی شرمسار کرتی رہی ۔

منموہن سنگھ کی موجودہ حکومت اس قدر ناکام اور بے عمل ثابت ہوئی ہے کہ لوگوں کا سیاسی رہنماؤں اور اداروں سے اعتبار اٹھنے لگا ہے ۔ ایک عرصے سے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے سارا نظام رُک سا گیا ہو اور یہ حکومت صرف اپنا وقت کاٹ رہی ہو۔

جمعے کی رات جن دو وزیروں کو برطرف کیا گیا وہ بھی پچھلے پندرہ دنوں کے تعطل، ہنگامہ آرائیوں، جلسے جلوسوں اور ہر طرح کی لعنت اور ملامت کے بعد کیا گیا ہے۔ اگر مسٹر سنگھ نے یہی قدم ابتدا میں ہی اٹھا لیا ہوتا تو اخلاقی طور پر ان کا سر اونچا ہوتا لیکن جو کام وہ پچھلے نو برس میں نہیں کر سکے وہ یہ کام اب کیسے کرتے ۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ نے نو برس پہلے جب پہلی بار حکومت سنبھالی تھی تو اس وقت ان کی شبیہ ایک ایماندار شخص کی تھی۔ انہیں دنیا کا ایک بہترین ماہر اقتصادیات تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن ان کی قیادت میں ملک کی کامیات معیشت اب کساد بازاری سےگزر رہی ہے ۔ ملک کی اکثریت اب ان کی ایمانداری پر شک کرنے لگی ہے۔

حکومت کی جو روش ہے اس سے ایسا نہیں لگتا کہ یہ اپنی پانچ سالہ مدت پوری کر پائے گی۔ وہ اب انتخابات کی تیاریوں میں ہے۔ آئندہ چند دنوں میں کابینہ میں رد وبدل کیے جائیں گے۔ پارٹی کے بارے میں عوامی تاثر کو بہتر بنانے کے لیے سونیا گاندھی آئندہ جون تک کابینہ اور حکومت میں ایسے لوگوں کو سامنے لانے کی کوشش کریں گی جن کی شبیہ صاف اور شفاف ہے۔

لیکن اب شاید بہت دیر ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کی حکومت دونوں ہی پوری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔

اسی بارے میں