منموہن سنگھ کی نواز شریف کو بھارت آنے کی دعوت

Image caption نواز شریف کو کئی طرح کے مسائل اور چيلجز کا سامنا ہوگا

بھارت نے پاکستان میں انتخابات کے نتائج کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ جمہوری حکومت کی تشکیل سے دونوں ملکوں کے رشتے اورمضبوط ہونگے۔

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے پاکستان کے انتخابات میں نواز شریف کی پارٹی کی زبردست کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کیا ہے۔

انھوں نے پاکستانی عوام اور وہاں کی سیاسی جماعتوں کو تشدد کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے کثیر تعداد میں ووٹ ڈالنے پر مبارکباد دیا ہے۔

وزیر اعظم کے ٹوئیٹ پر کہا گیا ہے کہ منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ’بھارت نئی حکومت کے ساتھ دونوں ملکوں کے تعلقات کا نیا راستہ بنانے کے لیے تیار ہے۔‘

انھوں نے نواز شریف کو بھارت آنے کی دعوت بھی دی ہے۔

وزیر اعظم کے ٹوئیٹر ہینڈل پر کہا گیا ہے کہ ’بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے دونوں ممالک کے لیے موزوں حالات میں نواز شریف کو بھارت آنے کی دعوت دی ہے۔‘

اس سے قبل بھارتی وزير خارجہ سلمان خورشید نے ایک بیان میں کہا کہ نواز شریف کی حکومت کے ساتھ ’ہمارے جو رشتے بنے تھے اس سے ہم میں یہ اعتماد پیدا ہوا تھا کہ ہم آگے بڑھ سکتے ہیں اور ہمارے رشتے مضبوط ہوسکتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف نے انتخابات کے دوران جو باتیں کہیں اس سے بھی ایسے ہی اشارے مل رہے ہیں اور ’ہم امید کرتے ہیں کہ ان کی مثبت پہل جاری رہیگي اور پھر بھارت بھی اس پر اپنا جواب دے سکتا ہے۔‘

حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ان انتخابات کو خوش آئند بات بتایا لیکن کہا ہے ابھی یہ دیکھنا ہوگا کہ نئی حکومت کا رویہ کیسا رہتا ہے۔

پارٹی کے ترجمان مختار عباس نقوی نے کہا، ’اگر پاکستان مضبوط اور مستحکم جمہوری نظام کی طرف پیش رفت کرتا ہے تو بلا شبہ یہ سکون کی بات ہے۔ لیکن نئی حکومت کا رویہ کیا ہوگا یہ دیکھنا ہو گا۔‘

بھارت کے زير انتظام جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں نواز شریف کو مبارک باد پیش کی امید ظاہر کی ہے کہ سابق وزیر اعظم امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا اپنا وعدہ پورا کریں گے۔

اس سے قبل عمر عبداللہ نے پاکستانی الیکشن کمیشن کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا ’کشمیریوں کو بائیکاٹ کی کال کو نظر انداز کرنی چاہیے کیونکہ اچھے لوگوں کے ووٹ نہ ڈالنے سے برے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔‘

بھارتی ذرائع ابلاغ میں بھی پاکستانی انتخابات اور ان کے نتائج کے حوالے سے مسلسل خبریں اور تبصرے نشر ہورہے ہیں جس میں انتخابات کو پاکستان میں تبدیلی کا مظہر بتایا جار رہا ہے۔

تقریبا تمام نجی ٹی وی چینلوں پر گزشتہ رات سے انتخابات کے مختلف پہلوؤں پر جائزے میں یہ بات کہی جا رہی ہے کہ جو بھی نئی حکومت تشکیل پائے گي اس کے لیے گورنینس، معاشیات، لبرل اور انتہا پسندی کے درمیان توازان پیدا کرنے اور شدت پسندی سے نمٹنے جیسے سخت چيلجوں کا سامنا ہوگا۔

دلی کے معروف انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی پہلی سرخی ہے، ’فوجی بغاوت سے معزولی اور پھر جلا وطنی کے بعد نواز شریف تیسری بار پاکستان کے وزير اعظم بننے کے لیے تیار۔‘

اخبار ٹائمز آف انڈیا کی سرخی ہے، ’پاکستان میں تبدیلی کے لیے ووٹ، نواز شریف تیسری بار وزیر اعظم بننے کو تیار۔‘

بھارت کے بعض سینیئر صحافی جو پاکستان میں انتخابات کی کوریج کے لیے وہاں موجود ہیں انہوں نے ان انتخابات کو ’پاکستان میں نئے دور کے آغاز‘ سے تعبیر کیا ہے۔

معروف انگریزی ویب سائٹ این ڈی ٹی وی ڈاٹ کام پر نواز شریف کی فتح کو یقینی بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ نواز شریف کو ’بدحال معاشی حالات، ناکام بنیادی ڈھانچہ اور طالبان کی شدت پسندی جیسے سخت مسائل ورثے میں ملیں گے اور انہیں سخت چيلیجز کا سامنا کرنا ہوگا۔‘

اسی بارے میں