معروف اسلامی سکالر اصغر علی کا انتقال

اصغر علی انجینیئر
Image caption اصغرعلی انجینیئر کا اصل میدان بھارت میں فرقہ وارانہ مسئلہ تھا

اسلامیات کے معروف دانشور اصغر علی انجینیئر کا طویل علالت کے بعد منگل کو انتقال ہو گیا ہے۔

ان کے خاندان کے افراد نے کہا ہے کہ اصغر علی انجینيئر نے ممبئی کے شانتا کروز میں واقع اپنے گھر میں آخری سانسیں لیں۔

وہ 73 سال کے تھے۔ انھوں نے پسماندگان میں ایک بیٹا عرفان علی اور ایک بیٹی سارہ شامل ہیں۔

’سینٹر فار سٹڈیز آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم‘ کے صدر اور اسلامی موضوعات کے ماہر ڈاکٹر اصغر علی انجینئر 1940 میں راجستھان کے بوہرہ خوانوادے میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے وکرم یونیورسٹی سے انجینیئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔

1980 سے انہوں نے ’اسلامک پرسپکٹیو‘ یعنی اسلامی نقطہ نظر کے نام سے شائع ہونے والی ایک میگزین کی ادارت شروع کی۔

سنہ 1980 کی دہائی میں ہی اصغر علی نے اسلام اور بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد پر کئی کتابیں ترتیب دیں جو آزاد ہندوستان میں ان کی ریسرچ پر مبنی تھی۔

ان کی غیر معمولی خدمات کے لیے یو ایس اے انڈین سٹوڈنٹ اسمبلی اور یو ایس اے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ اسمبلی کی طرف سے 1987 میں ڈسٹنگوئشڈ سروس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مذہبی ہم آہنگی کے لیے انہیں 1990 میں ڈالمیا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کے علاوہ انھیں تین بار ڈاکٹریٹ کی اعزازی دگری سے نوازا گیا تھا۔

سنہ 1992 میں بھارت میں بابری مسجد کے انہدام اور اس کے بعد کے واقعات سے ڈاکٹر اصغر علی انتہائی مایوس ہوئے اور انہوں نے 1993 میں ’سنٹر فار اسٹڈی آف سوسائٹی اینڈ سیکولرزم‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا اور وہ تا دم مرگ اس کے صدر رہے۔

وہ ’انڈین جرنل آف سیکولرزم‘ نامی جریدے کی ادارت کے علاوہ ’اسلام اینڈ موڈرن ایج‘ نامی ماہنامے کی بھی ادارت کرتے رہے۔

انجینیر نے اسلام اور مسلمانوں سے متعلق مسائل پر 50 سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔

بھارت کے اہم اخباروں میں ان کی تحریریں گاہے بگاہے نظر آتی رہیں جن میں مسلمانوں کےنقطہ نظر کو وہ اپنے ڈھنگ سے پیش کرتے رہے۔

سنہ 2001 کے بعد سے انھون نے گلوبلائزیشن، اسلام اور دہشت گردی جیسے موضوعات پر بھی لکھا۔ پاکستان بھارت تعلقات پر بھی انھوں نے اپنا نقطئہ نظر پیش کیا ہے لیکن ان کا اصل میدان بھارت میں فرقہ وارانہ مسئلہ تھا۔

اسی بارے میں