نواز شریف پر انڈیا اعتماد کیوں کرے؟

Image caption پاکستان کی معیشت کو سنبھالنا نواز شریف کی ’اولین ترجیح ہے‘

جب سے میاں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوئی ہے، بھارت میں یہ امید سی جاگی ہے کہ اب پاکستان سے رشتے بہتر ہو سکتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ بھارت نواز شریف پر کیوں اعتبار کرے? جبکہ ماضی میں اس کا تجربہ اچھا نہیں رہا ہے، ان ہی کے دور اقتدار میں کارگل کی لڑائی ہوئی، وہ خود نام نہاد جہادی تنظیموں کے ہمدرد مانے جاتے ہیں، انہوں نے ہی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا امیرالمومنین بننے کا خواب دیکھا، تحریک طالبان پاکستان نےکبھی ان کی پارٹی کو نشانہ بنانے کی دھمکی نہیں دی، انہیں نے’جاگ پنجابی جاگ‘ کا نعرہ دیا اور مانا جاتا ہے کہ سخت گیر موقف رکھنے والی پنجابی لابی ان کی سب سے بڑی مداح ہے۔۔۔

یہ سوال جب میں نے صحافی دوستوں کے سامنے رکھا تو لگا کہ ان کے خیال میں اعتماد کرنےکا کیس نہ کرنے کے کیس سے زیادہ مضبوط ہے۔

فروری انیس سو ننانوے میں جب اٹل بہاری واجپئی بس میں سوار ہو کر لاہور پہنچے تو ان کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔

لاہور اعلامیہ ایک اہم دستاویز ہے جس میں مستقبل کے ہمہ جہت تعلقات کی سمت طے کی گئی تھی، لیکن اس وقت پاکستانی فوج بھارت سے بہتر تعلقات کےلیے تیار نہیں تھی کیونکہ اس وقت کے سیاسی منظرنامے میں وہ بھارت کو ہی اپنا سب سے بڑا دشمن تصور کرتی تھی۔ اور نام نہاد پاکستانی ’ڈیپ سٹیٹ’ انڈیا کو ’سلو بلیڈ‘ کی پالیسی سے تھکا کر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا تھا۔

Image caption لاہور اعلامیہ کے صرف تین مہینوں کےاندر کارگل کی لڑائی ہوئی

لاہور اعلامیہ کے صرف تین مہینوں کےاندر کارگل کی لڑائی ہوئی۔ جب وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی مینار پاکستان گئے تو بھارت میں سخت گیر قوم پرست لابی نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا، کہا جاتا ہے کہ ایک طرف ’واجپئی دو قومی نظریہ پر بی جے پی کی مہر لگا رہے تھے‘ اور دوسری طرف پاکستانی فوج کارگل میں دراندازی کا سلسلہ شروع کر چکی تھی۔

لیکن انڈیا میں ایک حلقہ یہ مانتا ہے کہ میاں نواز شریف اس سب کا حصہ نہیں تھے، یا کم سے کم اپنی خوشی سے نہیں۔ نواز شریف نے دو ہزار سات میں پاکستان لوٹنے سے قبل یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ انڈیا سے انہوں نےجو وعدے کیے تھے انہیں پورا نہیں کر سکے۔

بڑی حد تک کارگل کے نتیجے میں ہی نواز شریف کے فوج اور جنرل مشرف سے تعلقات کچھ اس نہج پر پہنچے کہ نواز شریف نے پہلے جیل کاٹی اور پھر جلاوطنی میں زندگی۔۔۔

’انڈیا سے دوستی کے لیے انہوں نے بھاری قیمت ادا کی ہے کیونکہ اگر واقعی وہ کارگل کے منصوبے میں’آن بورڈ‘ ہوتے تو واجپئی کو لاہور کیوں بلاتے؟‘

لیکن کیا اب حالات مختلف ہیں؟ کارگل، نائن الیون سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد سے دنیا بدلی ہے اور پاکستانی فوج کے لیے نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں۔ انڈیا سے’تھریٹ پرسیپشن‘ کم ہوا ہے، حقیقی معنوں میں نہیں تو شاید اس لیے کہ دوسرے زیادہ بڑے خطرات سامنے آئے ہیں، اور پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اٹھایا ہے۔

’اب نہ پاکستانی فوج اقتدار پر قبضہ کر سکتی ہے اور نہ بدلے ہوئے منظرنامے میں کرنا چاہتی ہے۔۔۔‘

اور شاید سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف بزنس مین ہیں اور وہ انڈیا سے بہتر تجارتی تعلقات کی اہمیت سمجھتے ہیں۔

پاکستان کی معیشت کو سنبھالنا ان کی’اولین ترجیح ہے‘ اور انڈیا ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقت ہے جو ان کے دروازے پر موجود ہے۔

سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے انیس سو بانوے میں اپنی انتخابی مہم کے دوران نعرہ دیا تھا کہ ’اٹس دی اکانومی، سٹوپڈ‘ یعنی اکانومی یا معیشت سب سے اہم موضوع ہے۔ نواز شریف نے بھی کہا ہے کہ معیشت ہی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔

معیشت اس وقت تک نہیں سنبھل سکتی جب تک ملک میں امن و قانون کی صورتحال بہتر نہیں ہوگی جسے بہتر کرنے کے لیے’جہادی تنظیموں‘ کو کنٹرول کرنا ہوگا اور اگر نواز شریف ایسا کرتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہےکہ ان پر اعتبار نہ کیا جائے؟

اسی بارے میں