ہندی چینی پھر بھائی بھائی!

Image caption چین کے وزیراعظم لی کے چیانگ اور بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جس انداز میں مشترکہ کانفرنس کی اس سے لگا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آگئے ہیں

چین کے وزیر اعظم انڈیا کیا آئے، سرحد پر کشیدگی اور ذرائع ابلاغ میں ہمسایہ ملک کو سبق سکھانے کے مطالبے جیسے ہوا ہوگئے!

اخبارات تجزیوں، تبصروں اور اداریوں سے بھرے پڑے ہیں اور واضح طور پر بھارتی میڈیا وزیر اعظم لی کے چیانگ کی شخصیت اور ان کے ’پر خلوص اور پرتپاک‘ انداز گفتگو سے متاثر نظر آرہی ہے۔

ہندوستان ٹائمز نے چینی وزیر اعظم کی شخصیت کو ’تازہ ہوا کے جھونکے’ سے تعبیر کیا ہے۔ اخبار کےمطابق چینی رہنما اکثر ’کھلے انداز’ میں بات نہیں کرتے لیکن اس کےبرعکس مسٹر لی ہمشیہ ’دوستانہ‘ انداز اختیار کرتے ہیں۔

’جب وزیرِ خارجہ سلمان خورشید ان سے ملنے گئے تو مسٹر لی نے ایک پرانی چینی کہاوت سے ان کا استقبال کیا: ’جب آپ پہلی مرتبہ کسی سے ملیں تو آپ اجنبی ہوتے ہیں، دوسری مرتبہ ملیں تو دوست، اب ہم دوست ہیں!‘

چینی وزیر اعظم سے مسٹر خورشید کی پہلی ملاقات دس مئی کو ہوئی تھی جب وہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعے کے پس منظر میں بیجنگ گئے تھے۔

حکومت چینی فوج کی جانب سےمبینہ دراندازی کو سفارت کاری کے ذریعہ حل کرنا چاہتی تھی لیکن اس وقت میڈیا اور تجزیہ نگاروں کا ایک بڑا حلقہ حکومت کی پالیسی کو کمزوری کی علامت بتاتے ہوئے ہمسایہ ملک کے ساتھ سختی سے نمٹنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

بزنس کے اخبار اکانومک ٹائمز کی سرخی ہے: ’لی نے دہلی کو دے- لی میں تبدیل کر دیا۔‘ اخبار کا کہنا ہے کہ بات چیت میں بھائی بھائی اور ایک دوسرے کی تعریف کا جذبہ غالب رہا۔۔۔ ’سرحد کے تنازعے پر تفصیل سے اور دو ٹوک الفاظ میں بات ہوئی لیکن وہ دوسرے امور پر اثر انداز نہیں ہوا۔’

لیکن ساتھ ہی اخبار نے ایک جائزہ بھی شائع کیا ہے جس کے مطابق 83 فیصد بھارتی شہری چین کو سکیورٹی کے لحاظ سے خطرہ مانتے ہیں۔(یہ سروے سرحد پر حالیہ کشیدگی سے پہلے کیا گیا تھا۔)

اخبار نے مشترکہ اعلامیے میں شامل ایک جملے سے ہی اپنا اداریہ شروع کیا ہے: ’دنیا میں چین اور انڈیا دونوں کی ترقی کے لیے گنجائش موجود ہے۔‘

ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے کہ چینی وزیر اعظم ’بہت خوش مزاج‘ تو نظر آئے ہی، انڈیا کے بارے میں ان کی معلومات سے بھی بھارتی قیادت بہت متاثر ہوئی۔

مسٹر کے چیانگ نے کہا کہ انھوں نے اپنی بیٹی کے کہنے پر عامر خان کی فلم تھری ایڈیٹس دیکھی تھی جو انھیں بہت پسند آئی۔

راشٹرپتی بھون میں رسمی استقبالیہ کے بعد انہوں نے دس منٹ تک صحافیوں سے باہمی تعلقات پر بات چیت کی حالانکہ عام طور پر غیر ملکی مہمان مختصر سا جواب دے کر چلے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد چینی رہنما نےصحافیوں سے پوچھا کہ کیا انھوں نے جو کچھ کہا ہے ’وہ بھارتی اخباروں کے صفحہ اول پر شائع ہوگا!’

انڈین ایکسپریس کا کہنا ہے کہ ’چینی رہنما نے اپنی بات چیت کے دوران (مختلف فلسفیوں اور ادیبوں کا حوالہ دے کر) نہ صرف یہ ظاہر کیا کہ وہ بہت پڑھے لکھے ہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ ایک نئی چینی قیادت کی ترجمانی کرتے ہیں جو خود کو صرف ماؤ کے نظریہ تک محدود نہیں رکھتی۔‘

اس دورے میں کوئی بڑی پیش رفت تو نہیں ہوئی لیکن دونوں ملکوں نے اس بات پر ضرور اتفاق کیا کہ وہ ’سرحد پر امن قائم رکھنے کے لیے مل جل کر کام کریں گے اور اپنے اتحادی ممالک سے تعلقات کو باہمی تعلقات کی راہ میں آڑے نہیں آنے دیں گے۔

اور شاید اسی وجہ سے ہندوستان ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے، ’زمین پر کتنی بھی تلخی ہو، سفارتکاری کی بات کچھ اور ہی ہے۔۔۔اور چینی وزیر اعظم کے دورے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے۔‘

اسی بارے میں