کشمیر: مسلح افراد کے حملے میں تین فوجی ہلاک

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ ترال میں مسلح عسکریت پسندوں نے بھارتی فوج کے گشتی دستے پر فائرنگ کی جس میں تین فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے۔

سرینگر میں تعینات بھارتی فوج کی 15 ویں کور کے ترجمان نریش وگ نے بی بی سی کو بتایا کہ حملے میں ہمارے تین جوان مارے گئے۔

مقامی پولیس نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور فوجیوں کے ہتھیار چھین کر فرار ہوگئے۔ تاہم موقع واردات سے دو ایس ایل آر رائفلیں برآمد ہوئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں رائفلیں عسکریت پسندوں نے پچھلے سال پولیس اہلکاروں سے چھینی تھیں۔

واضح رہے کہ ترال قصبہ میں مسلح عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں برسوں سے فوج کے لیے تشویش کا سبب رہی ہیں۔

پولیس کے خفیہ شعبہ کے ایک افسر نے بتایا کہ حملہ آور ہتھیار لے کر شاہراہ پر آئے اور کسی گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ترال کے علاقے بوچھو پائین میں محاصرہ کیا گیا ہے۔

کشمیر میں اب مسلح تشدد کی سطح کم ہو گئی ہے لیکن اس طرح کے حملے آئے روز ہوتے رہتے ہیں۔

گزشتہ دنوں شمالی ضلع کپوارہ میں چار پولیس اہلکاروں کو مسلح افراد نے ہلاک کردیا تھا۔

پولیس نے جمعرات کو دعویِ کیا کہ ایسے حملوں کی منصوبہ سازی کرنے والا ایک عسکری کمانڈر ہلال احمد راتھر عرف ہلال مولوی ایک تصادم میں مارا گیا۔

پولیس اور فوج اکثر یہ دعوی کرتی ہے کہ کشمیر سے عسکریت پسندی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق کشمیر میں اب 100 سے بھی کم عسکریت پسند ہیں۔

ان دعوں کے ردعمل میں علیحدگی پسند، انسانی حقوق کے ادارے اور وزیراعلی عمر عبداللہ یہاں نافذ فوجی قوانین کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ابھی بھی سینکڑوں عسکریت پسند ہیں جو دراندازی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں