نکسل باغیوں کے حملے میں 23 ہلاک

Image caption ماؤ باغیوں نے بارودی سرنگ کا دھماکا کر کے گاڑیاں رکوائیں اور پھر فائرنگ کر دی

انتہا پسندی سے متاثرہ بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں حکام کے مطابق ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے جن میں کانگریس پارٹی کے کئی سینیئر رہنما بھی شامل ہیں۔

سنیچر کو ہونے والے حملے میں کانگریس کے سینیئر رہنما مہندر کرما کے علاوہ سابق رکن اسمبلی ادے مودليار اور گوپی مادھواني موقع پر ہی مارے گئے تھے جبکہ باغی حملے کے بعد کانگریس کے ریاستی صدر اور سابق وزیراعلیٰ نند کمار پٹیل اور ان کے بیٹے دنیش کو اغوا کر کے لے گئے تھے۔

نند کمار پٹیل اور ان کے بیٹے کی لاشیں اتوار کی صبح جائے واردات سے کچھ دور پائی گئی ہیں۔

ادھر حملے میں زخمی ہونے والے پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر ودیا چرن شکلا کی حالت کافی نازک ہے۔ انہیں پیٹ اور پیر میں کئی گولیاں لگی ہیں۔

یہ حملہ چھتیس گڑھ کے ریاستی دارالحکومت رائے پور کے قریب ہوا اور اس میں کانگریس کے ایک انتخابی قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق مہندر کرما اور ان کے ساتھیوں کو دو سو سے زیادہ ماؤ نوازوں نےگھیر لیا اور ان پر گولیاں برسا دیں۔

اطلاع کے مطابق کانگریس کے یہ سینیئر رہنما ضلع بستر کے علاقے درباگھاٹی میں ایک سیاسی ریلی کے بعد واپس آ رہے تھے کہ باغیوں نے ایک بارودی سرنگ کا دھماکا کر کے ان کی گاڑیاں رکوائیں اور پھر اندھادھند فائرنگ کر دی۔

Image caption حملے کے بعد زخمیوں کو جگدلپر ہسپتال میں داخل کرایا گیا

اس حملے میں 32 افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں ابتدائی طور پر جگدلپر ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والے مہندر کرما چھتیس گڑھ میں کانگریس کے سینیئر لیڈر تھے اور نكسل مخالف سلوا جڈم مہم کے بانی مانے جاتے تھے۔ وہ ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر رہ چکے تھے اور ان پر پہلے بھی حملے ہوئے تھے۔

ادھر چھتیس گڑھ میں کانگریس کے رہنما اجیت جوگی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی جے پی کی ریاستی حکومت ماؤنوازوں پر قابو پانے میں پوری طرح ناکا م رہی ہے اور اسے برطرف کیا جانا چاہیے۔

چھتیس گڑھ ریاست میں بی جے پی اقتدار میں ہے اور ریاست میں اس سال کے اواخر تک اسمبلی انتخابات ہونے والےہیں۔ یہ ریاست ماؤنوازوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست ہے اور یہاں ماؤ نوازوں کے حملے اور پولیس سے ان کے تصادم میں سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں