نکسلی مسئلے کی جڑیں کافی گہری ہیں

Image caption بھارت میں ماؤ نواز بائیں بازو کی شدت پسند تحریک مغربی بنگال کے نکسل باڑی سے شروع ہوئی

سنیچر کی شام بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کے حملے میں کانگریس کے ریاستی صدر نند کمار پٹیل اور سابق وزیر مہندر کرما سمیت 23 لوگوں کی موت نے ایک بار پھر نکسلی تشدد کی سنگینی کا احساس دلایا ہے۔

اس مسئلہ کی جڑیں کافی گہری ہیں جو تقریبا پچاس سال پرانی ہیں۔

بھارت میں نکسلی تشدد کی شروعات 1967 میں مغربی بنگال کے نکسل باڑی سے ہوئی جس سے اس تحریک کو اس کا نام ملا۔ واضح رہے کہ اس سے منسلک لوگوں کو ماؤنواز بھی کہا جاتا ہے۔

اگرچہ اس بغاوت کو تو پولیس نے کچل دیا لیکن اس کے بعد کے عشروں میں مشرقی اور شمال مشرقی بھارت کے کئی حصوں میں نکسلی گروہوں کا اثر بڑھا ہے۔ ان میں جھارکھنڈ، مغربی بنگال، اڑیسہ، بہار، چھتیس گڑھ اور آندھرا پردیش جیسی ریاستیں شامل ہیں۔

ان دہائیوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز اور ماؤ نواز باغیوں یا نکسلیوں کے درمیان کئی بار خوں ریز مقابلے ہوئے جن میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ۔

مانا جاتا ہے کہ بھارت کے کل چھ سو سے زیادہ اضلاع میں سے ایک تہائی اضلا‏ع نکسلی مسئلہ سے دو چار ہیں۔

تجزیہ کار مانتے ہیں کہ نکسلیوں کی کامیابی کی وجہ ان کو مقامی سطح پر ملنے والی حمایت ہے۔

نکسلیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان قبائلیوں اور غریب لوگوں کے لیے لڑ رہے ہیں جنہیں حکومت نے کئی دہائیوں سے نظر انداز کر رکھا ہے۔

ماؤنواز باغیوں کا دعوی ہے کہ وہ زمین کے حقوق اور وسائل کی تقسیم کی جدوجہد میں مقامی لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ماؤنواز کا مقصد ’ایک کمیونسٹ سماج‘ قائم کرنا ہے، حالانکہ ان کے اثرات قبائلی علاقوں اور جنگلوں تک ہی محدود ہیں۔

شہری علاقوں میں ان کو عام طور پر شدت پسند سمجھا جاتا ہے۔ حکومت ان سے نمٹنے کے سلسلے میں پس و پیش کا شکار نظر آتی ہے کہ آیا وہ اس کے لیے فوج تعینات کرے یا نہیں۔

سنہ 2009 میں ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتہ سے محض 250 کلومیٹر دور لال گڑھ ضلع پر نکسلیوں نے قبضہ کر لیا تھا جو کئی ماہ تک قائم رہا۔ ماؤنواز باغیوں نے لال گڑھ کو بھارت کا پہلا ’آزاد علاقہ‘ قرار دیا لیکن آخر کار سکیورٹی فورسز اس بغاوت کو دبانے میں کامیاب رہیں۔

Image caption مہیندر کرما پر اس سے قبل بھی کئی بار حملے ہو چکے ہیں جن میں بال بال بچے تھے

نکسلی تشدد کا ایک بڑا واقعہ سال 2010 میں سامنے آیا جن نکسلیوں نے چھتیس گڑھ کے گھنے جنگلات میں سکیورٹی فورسز پر گھات لگا کر حملہ کیا جس میں 76 اہلکار مارے گئے۔

اس سے قبل سنہ 2007 میں چھتیس گڑھ میں ہی پولیس کے ایک ناکے پر نکسلی حملے میں 55 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

ماؤنواز باغیوں کے سربراہ كشن جي کی نومبر 2011 میں مغربی بنگال میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں موت کو ماؤ نواز باغیوں کے لیے ایک بڑا جھٹکے اور حفاظتی دستوں کے لیے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا۔

وہیں مئی 2012 میں ماؤنواز باغیوں نے چھتیس گڑھ کے سكما میں تعینات ضلع افسر ایلکس پال مینن کو اغوا کر لیا تھا۔ 13 دنوں تک چلے ڈرامائی واقعات کے بعد مینن کی مشروط رہائی ہوئی۔.

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دیگر سالوں کے مقابلے میں سال 2012 میں نکسلی وارداتوں میں کمی آئی، چاہے وہ چھتیس گڑھ ہو، جھارکھنڈ، اڑیسہ، بہار، مہاراشٹر یا پھر آندھرا پردیش کیوں نہ ہو۔

Image caption بھارتی سیکوریٹی فور‎سز کا کہنا ہے کہ یہ بچے ماؤنواز تھے

سال 2011 میں جہاں نکسلی وارداتوں میں 611 افراد مارے گئے تھے، وہیں 2012 میں 409 لوگ مارے گئے جن میں سیکورٹی فورسز کے 113 جوان اور 296 عام شہری شامل ہیں۔ اگر سال 2010 پر نظر ڈالیں تو ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1005 تھی۔

سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جاری لڑائی میں زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہی ہوا ہے۔ عام لوگ دونوں فریق یعنی سیکورٹی فورسز اور باغیوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔

جہاں سکیورٹی فورسز پر الزام لگے ہیں کہ انہوں نے نکسلی کہہ کر عام لوگوں کو نشانہ بنایا ہے، وہیں ماؤ نواز باغیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے بھی پولیس کا مخبر کہہ کر بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا دیا ہے۔

اسی بارے میں