مودی کی آمد، این ڈی اے کے بکھرنے کا خطرہ

Image caption کرشن اڈوانی نریندر مودی کو انتخابی مہم کی مکمل ذمہ داری دیے جانے کی مخالفت کر رہے تھے

بھارت میں ہندو نواز سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے نریندر مودی کو انتخابی مہم کا سربراہ مقرر کرنے سے اس کی بعض اتحادی جماعتوں میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں اس کی بہار میں حلیف جماعت جنتال یو کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی یہ فیصلہ کرنے والی ہے کہ آيا اسے اب بی جے پی کے ساتھ رہنا ہے یا نہیں۔

ریاست بہار میں جنتا دل یو اور بی جے پی کی مخلوط حکومت ہے لیکن وزیراعلی نتیش کمار نریندر مودی کے مخالفین میں سے ایک ہیں۔

بھارتی خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ انڈيا کے مطابق نتیش کمار نے چودہ جون کو پارٹی کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ طلب کی ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائیگا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ رہیگی یا نہیں۔

ادھر ریاست کے ڈپٹی وزیراعلی اور بی جے پی کے رہنما سوشیل کمار مودی نے بھی اس صورت میں حکمت عملی طے کرنے کے لیے اپنے پارٹی کی وزراء کی میٹنگ طلب کی ہے۔

نتیش کمار نریندر مودی کے ناقدین میں سے ہیں اور مبصرین کے مطابق اب وہ کسی بھی وقت بی جے پی سے علحیدہ ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ جنتادل یو بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ کا بھی حصہ ہے اور امکان ہے وہ اس سے بھی باہر نکل جائے۔

اڑیسہ کے وزیر اعلی اور بیجو جنتادل کے رہنما نوین پٹنائیک بھی مودی کے طرز کی سیاست پسند نہیں کرتے اور انہوں نے بھی کہا ہے کہ اگر نریندر مودی این ڈی اے کے رہنما بنے تو وہ اس محاذ میں شامل نہیں ہوں گے۔

اس سے قبل خود پارٹی کے اندر شدید اختلافات کے سبب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر ترین رہنما لال کرشن اڈوانی نے پارٹی کے عہدوں سے استعفیٰ دیا دیا تھا جسے انہوں نے گزشتہ روز واپس لے لیا۔

خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف انڈيا کے مطابق ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے مسٹر اڈوانی سے بات چيت کی اور انہیں استعفی واپس لینے کے لیے قائل کیا۔

واضح رہے کہ لال کرشن ایڈوانی نے پیر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا اور تمام کوششوں کے باوجود اسے واپس لینے سے انکار کر دیا تھا۔

لال کرشن اڈوانی بظاہرگجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو بی جے پی کی انتخابی مہم کے لیے حمکت عملی کی تشکیل کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنے پر ناراض ہیں۔

اڈوانی نریندر مودی کو انتخابی مہم کی مکمل ذمہ داری دیے جانے کی مخالفت کر رہے تھے اور اطلاعات کے مطابق اسی لیے انہوں نے گوا میں پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔

بی جے پی کے صدر راج ناتھ سنگھ کے نام ایک خط میں لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ بی جے پی نے اب جو سمت اختیار کی ہے اس میں وہ اپنے لیے جگہ تنگ محسوس کر رہے ہیں۔

’میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اب یہ وہ اصولوں والی پارٹی نہیں رہی جو اٹل بہاری واجپئی، شیاما پرساد مکھرجی اور دین دیال اپادھیائے نے قائم کی تھی، کچھ عرصے سے مجھے پارٹی کے کام کاج کے طریقے اور اس کی سمت کو تسلیم کرنے میں دشواری ہو رہی تھی، اب زیادہ تر رہنما صرف اپنےایجنڈے کے لیے کام کر رہے ہیں‘۔

ایل کے ایڈوانی کے تبصرے کو نریندر مودی پر تنقید سمجھا جاتا ہے۔ مودی آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم چلائیں گے جس سے وہ وزیرِاعظم کے عہدے کے لیے امیدوار بننے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔

نریندر مودی کو ایک متحرک اور پر اثر رہنما کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جنہوں نے گجرات کو ایک معاشی قوت بنایا لیکن وہ تقسیم کرنے والی شخصیت بھی ہیں جن کی شہرت کو 2002 میں ان کی دورِ حکومت میں مسلمان مخالف فسادات کی وجہ سے نقصان پہنچا۔

ان فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ نریندر مودی تشدد کو روکنے میں اپنی ناکامی کو رد کرتا ہے۔

اسی بارے میں