اترا کھنڈ: سیلاب سے ہلاکتیں، زبردست تباہی

Image caption گنگا اور بھاگیرت کی سطح زيادہ بڑھ جانے کی وجہ سے دریا کے آس پاس نصب کئی طرح کی مشینیں اور دیگر آلات کے ساتھ تقریبا ایک درجن مکانات بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں

بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں تین دنوں سے جاری موسلا دھار بارشوں کے سبب علاقے میں شدید تباہی کی خبریں مل رہی ہیں اور وہاں موجود مذہبی مقامات کے لیے سفر والے راستے بند ہو جانے سے تقریباًً تیس ہزار سے زیادہ زائرین کئی مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔

کیدار ناتھ میں رام باڑ علاقے سے اب تک چھ لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور تقریباً چالیس لوگ لاپتہ ہیں۔

دہرادون میں تین افراد ملبے تلے دب گئے ہیں اور اترکاشی میں کئی مکان اور پل گرگئے ہیں۔ ادھر الموڑا میں بھاری بارش کے سبب ایک بس کھائی میں گرگئی ہے جس میں تین لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ روڑكي میں بھی کئي لوگوں کے بہہ جانے کی خبر ہے۔

سیلاب سے آئي اس تباہی میں امدادی کارروائیوں پر نظر رکھنے والے محکمہ کے ڈائریکٹر پیوش روتیلا نے بی بی سی کو بتایا کہ کیدار ناتھ کی جانب پیدل جانے والے راستے میں حالات انتہائی سنگین ہیں۔

ان کے مطابق ’کئی جگہوں سے رابطہ پوری طرح منقطع ہوگيا ہے اور کوئی اطلاع نہیں مل پاری رہی۔ خدشہ ہے کہ وہاں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کافی بڑھ سکتی ہے۔‘

گڑھوال ڈویژن میں گنگوتري، يمنوتري، بدری ناتھ اور کیدار ناتھ جانے والے تمام راستے کئی مقامات پر کٹ گئے ہیں اور اس پر نقل و حرکت مکمل طور پر رک گئی ہے۔

اترا کھنڈ کا بیشتر حصہ پہاڑی علاقہ ہے اور کئي مقامات پر پہاڑیوں سے زمین کھسکنے کے سبب مکانوں اور سڑکوں پر ملبہ آ رہا ہے۔

ریاست میں ہندوں کی کئي مقدس زیارت گاہیں ہیں جہاں ہر روز لوگ ہزاروں کی تعداد میں زيادت کے لیے جاتے ہیں لیکن انتظامیہ نے لوگوں سے اس موسم میں اتراکھنڈ نہ آنے کی اپیل کی ہے۔

بھارتی کرکٹ کھلاڑي ہربھجن سنگھ بھی اپنے خاندان کے ساتھ جوشمیٹھ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں ہیمكنڈ صاحب جانا تھا لیکن راستہ بند ہونے اور پل ٹوٹ جانے کی وجہ سے وہ آگے نہیں جا پائے۔

پہاڑی علاقوں میں گنگا، بھاگیرت، الكنندا جیسی دریاؤں میں طغیانی آئي ہوئی ہے اور ہردوار اور رشیکیش میں دریائےگنگا خطرے کے نشان سے ایک میٹر اوپر بہہ رہی ہے۔

مقامی صحافی بلبیر پرمار کے مطابق گنگا اور بھاگیرت کی سطح زيادہ بڑھ جانے کی وجہ سے دریا کے آس پاس نصب کئی طرح کی مشینیں اور دیگر آلات کے ساتھ تقریباً ایک درجن مکانات بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔

Image caption انتظامیہ کی جانب سے حساس مقامات کو خالی کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں

کئی پلوں کو دریا کے تیز بہاؤ نے كاٹنا شروع کر دیا ہے اور کئی مقامات پر دریا سے تحفظ کے لیے بنائي گئی دیوار بھی بہہ گئی ہے۔ گنگوتري کا ہائی وے کئی مقامات پر دھنس گیا ہے۔

دھناري اور ماتلي بندركوٹ میں کئی دیہات کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے حساس مقامات کو خالی کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دہرادون میں غیر معمولی بارش کا ایسا منظر پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ اتراکھنڈ میں محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر آنند شرما کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں یہاں اتنی بارش ہوئی ہے جتنی دلی اور پونا کو ملا کر پورے سال میں ہوتی ہے۔

ریاست میں عام زندگی پوری طرح رک سی گئی ہے اور بہت سے لوگ حیران و پریشان اور خوف زدہ ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ حالات جلد بہتر ہونے کے امکانات کم ہیں کیونکہ محمکہ موسمیات نے اگلے 24 گھنٹے میں زبردست بارش کی وارننگ دی ہے۔

حالات سے نمٹنے کے لیے فوج کی مدد لی جا رہی ہے لیکن کئی علاقوں سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے اور معلومات نہیں مل پا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بارش رکنے کے بعد ہی اس بات کا صحیح جائزہ لیا جا سکے گا کہ کس قدر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

اسی بارے میں