کشمیر کے تعلیم یافتہ جنگجو

Image caption سجاد یوسف بھارتی دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے تھے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان مسلح مزاحمت پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں ایک تصادم کے دوران مارے گئے عسکریت پسند سجاد یوسف بھارتی دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے تھے۔ انھوں نےکمپیوٹر اپلیکیشن میں ماسٹرز ڈگری بھی لی تھی۔

ایک اور تصادم میں ہلاک ہونے والے مسیح اللہ نے ایم ٹیک کی ڈگری میں 70 فیصد نمبر لیے تھے۔

پولیس کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران شمالی اور جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں متعدد تصادم ہوئے جن میں کم از کم 16 ایسے نوجوان عسکریت پسند ہلاک ہوگئے جو کمپیوٹر، نظام تجارت، سیاسیات اور دوسرے علوم میں اعلی ڈگریاں رکھتے تھے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کمشیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے بھی اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’یہ غور طلب مسئلہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان مسلح تشدد کو اپنا کیریئر کیوں بنا رہے ہیں؟ ہم اس کے اسباب کا پتہ لگائیں گے‘۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم اداروں کا کہنا ہے کہ تعلیم یافتہ عسکریت پسندوں میں اکثریت ان کی ہے جنہیں غیر مسلح احتجاج کے لیے پولیس کے عتاب کا سامنا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پچھلے تین سال کے دوران پانچ ہزار کم سن نوجوانوں کو گرفتار کرکے باقاعدہ مجرموں کے ہمراہ جیلوں میں رکھاگیا۔

پولیس حکام کے مطابق پچھلے چار سال کے دوران ایسے 16 عسکریت پسند مختلف جھڑپوں میں ہلاک ہوئے جو یونیورسٹی کی سطح تک تعلیم یافتہ تھے۔

شوپیان میں مارے گئے سجاد یوسف کے والد محمد یوسف میر مقامی بینک میں منیجر ہیں۔ اکثر کشمیری حلقوں کی طرح وہ بھی سمجھتے ہیں کہ پولیس کی زیادتیوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مسلح مزاحمت پر اُبھارا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’حالات تو ٹھیک نہیں ہیں۔ ظلم کی کوئی نہ کوئی کہانی روزانہ ہمارے سامنے بنتی ہے۔ ایسے میں جب نوجوانوں کو بھی ستایا جائے تو ان کے پاس بندوق ایک آخری سہارا رہ جاتا ہے‘۔

قانون دان اور مصنف سّید تصدق حسین کہتے ہیں ’کشمیر ہندوستان یا پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے۔ چین اور روس بھی کشمیر کے پڑوسی ہیں۔ ہندوستان امریکہ کی گود میں چلاگیا ہے، چین اس چیز کو برداشت نہیں کرتا۔ یاد رکھیے یہاں جو بھی اسلحہ بھارت مخالف مسلح شورش میں استعمال ہوا، وہ تقریباً سبھی چینی ساخت کا تھا‘۔

حُسین کے مطابق اگر کشمیر میں زیادتیوں کا بازار گرم رہا تو چین کے لیے یہاں ایک نئی عسکریت پروان چڑھانے میں آسانی ہوجائے گی۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک کہتے ہیں کہ حکومتِ ہند کی موجودہ پالیسی کشمیری نوجوانوں کو انتہاپسندی کی جانب دھکیل رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’جب ہم نے 25 سال قبل بھارت مخالف مظاہرے کیے، اسی طرح ہم کو بھی عتاب کا شکار بنایا گیا۔ پھر ہم نے بندوق اُٹھائی۔ آج جب کشمیریوں نے یکطرفہ طور عدم تشدد کا اعلان کیا تو حکومت خود عوام کو تشدد پر اکسا رہی ہے‘۔

واضح رہے کہ مسلح شورش کے اوائل میں جن نوجوانون نے بندوق اٹھائی وہ تعلیم ترک کر چکے تھے اور احتجاجی لڑکے تھے۔ لیکن آج جو لوگ مسلح عسکریت پسندی پر آمادہ ہو رہے ہیں، وہ نہ صرف آسودہ حال گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں، بلکہ یونیورسٹیوں سے ڈگری یافتہ بھی ہیں۔

پچھلے 25 سال کے دوران حکومتِ ہند کا دعویٰ رہا ہے کہ کشمیر میں بے روزگاری کی وجہ سے لوگ ہند مخالف مزاحمت کا حصہ بنتے ہیں۔

تاہم اکتوبر سنہ 2009 میں جب بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ، کانگریس سربراہ سونیا گاندھی اور کئی بھارتی وزرا کشمیر میں ریلوے لائن کا افتتاح کررہے تھے تو اس وقت وزیر اعلی عمرعبداللہ نے اپنی تقریر میں کہا تھا ’کشمیریوں نے تعمیر و ترقی یا روزگار کے لیے بندوق نہیں اُٹھائی بلکہ مسلۂ کشمیر کو حل کرنے کے لیے بندوق اُٹھائی تھی‘۔

حالیہ دنوں ایک تصادم میں مارے گئے عسکریت پسند سجاد یوسف بھی بھارت کے دارلعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے تھے اور انھوں نےکمپیوٹر اپلیکیشن میں ماسٹرس ڈگری بھی لی تھی۔

اسی بارے میں