بھارت میں سیلاب سےتباہی، 150 افراد ہلاک

Image caption بارش رکنے کے بعد امدادی کارراوائیوں میں تیزی آئی لیکن ابھی بھی ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں

بھارت میں حکام کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں میں مون سون کی بارشوں سے آنے والے سیلاب کے نتیجے میں اب تک 150 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں لاپتہ ہو چکے ہیں۔

بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے مطابق ہندوں کے مقدس مقام ’چار دھام‘ کا راستے بند ہو جانے کی وجہ سے تقریباً 70 ہزار ہندو زائرین مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔

اترا کھنڈ میں سب سے زیادہ تباہی رودر پرياگ ضلع میں واقع شیو کی نگری کیدار ناتھ میں ہوئی ہے۔

اتراکھنڈ میں معروف کیدار ناتھ مندر کا اہم حصہ اور صدیوں پرانا گنبد تو محفوظ رہا ہے لیکن اس کے دروازے اور آس پاس کی آبادی یا تو بہہ گئی ہے یا مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔

مختلف علاقوں میں اب بھی ہزاروں افراد پھنسے ہوئے ہیں اور مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر فوج امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نے اب تک 100 سے زیادہ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن گڑھوال ڈویژن کے کمشنر سوردھن نے کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

Image caption حکام کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفات میں 500 سے زیادہ عمارتیں تباہ ہوئی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 500 سے زیادہ عمارات یا تو مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں یا پھر انھیں جزوی نقصان ہوا ہے۔

حکام کے مطابق ابھی بہت سے ایسے علاقے ہیں جہاں رابطہ بحال نہیں ہو سکا اس لیے تباہی کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جان و مال کا نقصان بڑھ سکتا ہے۔

منگل کو بارش رکنے کے بعد بدھ کو امدادی کارروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ ایک درجن سے زیادہ ہیلی کاپٹر امدادی کاموں میں مصروف ہیں اور جمعرات کو مزید ہیلی کاپٹروں کو امدادی کارروائیوں کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے جہاز کے ذریعے اس علاقے کا دورہ کیا۔

وزیراعظم نے 1,000 کروڑ روپے کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ دوسری ریاستوں سے بھی امدادی رقوم کا اعلان کیا جا رہا ہے۔

اتراکھنڈ سے ملحق ریاست اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش کمار یادو نے 500 کروڑ کی امداد کے ساتھ تمام سہولتیں فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

اترا کھنڈ کے وزیراعلیٰ وجے بہوگنا نے کہا ’اتراکھنڈ میں انفراسٹرکچر پوری طرح تباہ ہو گیا ہے۔ کم سے کم ایک سال تک کیدارناتھ کی یاترا شروع نہیں ہو سکے گی۔ اس کے شروع ہونے میں تین سے چار سال تک بھی لگ سکتے ہیں‘۔

جبل پور سے یاترا کے لیے آنے والی لکشمی کہتی ہیں’ ہم لگاتار 23 گھنٹے بس میں پھنسے بیٹھے رہے۔ بیت الخلا کے لیے بھی باہر نکلنا مشکل تھا، ہماری آنکھوں کے سامنے زمین کھسک رہی تھی‘۔

اسی بارے میں