بھارت: ہزاروں تاحال محصور، امدادی آپریشن تیز

Image caption امدادی کارکنوں کی پوری توجہ پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے پر ہے

بھارت کے شمالی ریاست اتراکھنڈ میں مزید بارشوں کی پیشنگوئی کے بعد امدادی کارکنوں نے بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہزاروں افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

بھارت کی حکومت نے بارشوں اور سیلاب کو’قومی بحران‘ قرار دیا ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں ٹھنڈے موسم میں اب بھی کئی لوگوں تک امداد نہیں پہنچ پائی ہے اور وہ بغیر خوراک اور پناہ گاہوں کے گزارہ کرنے پر مجبور ہیں۔

سکیورٹی فورسز متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے نکال رہے ہیں اور اس کے ساتھ متاثرہ سڑکوں اور پلوں کو مرمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ریاست اترا کھنڈ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ساڑھے پانچ سو سے بڑھ گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور غذائی اشیا کی قلت کی اطلاعات ہیں۔

جمعہ کو ریاست اترا کھنڈ کے وزیراعلیٰ وجے بہوگنانے مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بارش اور سیلاب سے اب تک 556 لاشوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فوج امدادی کارروائیوں کی قیادت کر رہی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج ابھی تک دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں پہنچ نہیں پائی۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ سوشل کمار کا کہنا ہے کہ 33 ہزار زائرین کو اب تک بچایا جا چکا ہے تاہم اب بھی 50 ہزار سے زائد افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ کے دفتر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے والے محکمے کے مطابق یہ تعداد 207 ہے لیکن دوسرے ذرائع سے انھیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 556 ہو گئی ہے۔

جمعہ کو صرف ہری دوار میں 40 سے زیادہ لاشیں ملی ہیں اور پانی کی سطح کم ہونے سے صورت حال مزید واضح ہوگی۔

ہری دوار کے ایس ایس پی راجیو سروپ ورما نے بی بی سی کو بتایا ’جیسے جیسے پانی کی سطح کم ہو رہی ہے ویسے ویسے لاشیں مل رہی ہیں اور امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں متاثرہ افراد کی مزید لاشیں بر آمد ہوں گی‘۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ بیشتر لاشیں بہنے اور پانی میں سڑنے کے سبب مسخ ہوگئی ہیں جن کی شناخت کرنا بہت مشکل ہے۔

Image caption بھارتی فوج کو فضائیہ کی مدد حاصل ہے اور ہیلی کاپٹروں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے

اس سے پہلے بھارت میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے محکمے نے کہا تھا کہ مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے تقریباً 35 ہزار افراد کو نکالا جا چکا ہے لیکن تقریباً 60 ہزار افراد اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

سب سے زیادہ تباہی ریاست اترا کھنڈ کے علاقوں کیدار ناتھ اور گوري كنڈ میں ہوئی۔

حکام کے مطابق سری نگر، چمولی، پتھورا گڑھ اور اترکاشی کے گنگوتري اور يمنوتري میں سینکڑوں مکان، دکانیں اور پل تباہ ہو گئے ہیں۔

ریاستی حکومت محکمہ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ کے حکام، فوج اور فضائیہ امدادی کاموں میں مصروف ہے۔

ریاست اتراکھنڈ میں ہندؤں کے کئی مقدس مقامات اور قدیم مندر ہیں جہاں ہزاروں افراد زیارت کے لیے جاتے ہیں۔

ملک کے کئی علاقوں سے لوگ یہ شکایت بھی کر رہے ہیں کہ ان کے اہل خانہ اترا کھنڈ زیارت کے لیے گئے تھے ان کا کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق تمام علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور لوگ اس بات کی شکایت کر رہے ہیں کہ وہ غذائی اشیاء اور پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 500 سے زیادہ عمارات یا تو مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں یا پھر انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اطلاعات کے مطابق درجنوں ہوٹل سیلاب میں بہہ گئے ہیں۔ امدادی کاموں میں فوج کے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں