ایک انا ہزارے ہو گئے بے چارے

Image caption کمپنی نے عدالت کے روبرو یہ اعتراف کیا کہ وہ جعلی دوائیں بنانے کی مجرم ہے۔

گزشتہ ماہ امریکہ کی ایک عدالت نے بھارت کی ایک سرکردہ دواساز کمپنی کو بوگس اور جعلی ادویات بنانے کا قصوروار قرار دیا۔

اس کمپنی کو جعلی ادویات بنانے کی پاداش میں پچاس کروڑ ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

کمپنی نے عدالت کے روبرو یہ اعتراف کیا کہ وہ جعلی دوائیں بنانے میں ملوث ہے۔

یہ بھارت کی ایک بڑی دواساز کمپنی ہے جو زندکی بچانے والی درجنوں دوائیں بناتی ہے۔

پوری دنیا میں کسی دواساز کمپنی کو جعلی ادویات بنانے کے جرم میں پچاس کروڑ ڈالر جرمانے کی سزا غالباً اپنی نوعیت کی سب سے بڑی سزا ہے۔

اتنا بڑا اور سنگین نوعیت کا واقعہ ہونے کے باوجود یہ خبر شاید ہی بھارت کے کسی اخبار کی سرخی بنی ہو۔ ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر بڑے بڑے بحث و مباحثوں کا اہتمام کرنے والے درجنوں ٹی وی چینلوں پر بھی یہ سنگین خبر جگہ نہ پا سکی۔

جو خبریں بھی شائع کی گئیں وہ اس طرح کہ جیسے وہ کسی غیر ملک کی خبر ہو اور محض ہرجانے اور جرمانے کا کوئی معاملہ ہو۔

یہ دواساز کمپنی کس طرح کی جعلی اور بوگس دوائیں بنا رہی ہے یہ بھارت میں کسی تشویش کا باعث نہیں ہے ۔صرف کچھ ہسپتالوں نے اس کمپنی کی ادویات کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

کچھ عرصے پہلے بھارت نے اٹلی سے اربوں روپے مالیت کے آگوستا جنگی ہیلی کاپٹر خریدے۔ اطالوی تفتیش کاروں نے اس سودے کی تفتیش کی اور انھیں پتہ چلا کہ اطالوی ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس سودے کو حاصل کرنے کے لیے بھارت کی فضائیہ کے اعلیٰ ترین اہلکاروں اور مقامی ایجنٹوں سمیت کئی افراد کو کروڑوں روپے کی رشوت دی گئی۔

اٹلی میں اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کو اس خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ کس کس کو کتنی کب اور کہاں رشوت دی گئی ساری تفصیلات موجود ہیں۔

اٹلی کی عدالت میں مقدمہ تیزی سے چل رہا ہے لیکن یہاں بھارت میں جن لوگوں پر رشوت لینے کا الزام ہے وہ اسے ایک غیر ملک کی خبر سمجھ کر ابھی تک عیش کر رہے ہیں۔

ایک اسرائیلی کمپنی نے بھی دفاعی سودوں کے لیے بعض بھارتی فوجی اہلکاروں اور دفاعی تاجروں کو رشوت دی تھی ۔ ان کا کیا ہوا یہ تو پتہ نہیں لیکن اسرائیلی کمپنی ضرور بلیک لسٹ کر دی گئی ہے۔

اس ہفتے اتر پردیش میں حکمران جماعت کے بلیا ضلع کے ایک رکنِ اسمبلی نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بچے کی پیدائش کے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے سے لے کر ملازمت کے لیے پولیس سے کردار کا سرٹیفیکٹ لینے تک اور ہسپتال میں مریضوں کےداخلے سے لے کر گھریلو استعمال کی گیس کا سلینڈر حاصل کرنے تک کوئی بھی کام بغیر رشوت کے نہیں ہو سکتا۔

اطلاعات کے مطابق بلیا میں ہی ایک مقام پر بعض پولیس کانسٹیبلز نے رشوت کی رقم میں مناسب حصہ مانگنے کے لیے اپنے اعلیٰ افسروں کے خلاف دھرنا دیا۔

بدعنوانی بھارت کے سیاسی نظام اور معاشرے میں بری طرح سرایت کر چکی ہے ۔ایک انا ہزارے بیچارے کیا کرے۔ یہاں تو ہزاروں اناؤں کی ضرررت ہے۔

اسی بارے میں