اتراکھنڈ میں 1000 سے زیادہ اموات کا خدشہ

Image caption بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ دشوار گزار راستے اور خراب موسم امدادی کاموں میں سب سے بڑا مسئلہ ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ریاست میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

دریں اثناء بھارت کی مرکزی حکومت نے اتراکھنڈ کی تباہی کو ’قومی بحران‘ قرار دیا ہے۔

اتوار کی صبح خراب موسم اور بارش کی وجہ سے فضائی ریسکیو آپریشن متاثر رہا لیکن دوپہر کے بعد موسم میں بہتری آنے سے امدادی کام پھر سے شروع کر دیا گیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی بھی ہزاروں افراد مختلف دور افتادہ مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔

حکام نے چھ سو سے زیادہ ہلاکتوں کی اب تک تصدیق کر دی ہے اور ان کا خیال ہے کہ ابھی بھی 40،000 سے زیادہ افراد اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

اتراکھنڈ کے علاقے رشی کیش میں موجود بی بی سی کے نمائندے نتن شریواستو کا کہنا ہے کہ آنے والے دو دن ریسکیو آپریشن کے لیے انتہائی اہم ہونگے۔

دوسری جانب حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس علاقے کے بارے میں طویل مدتی تعمیر نو کا پروگرام تیار کر رہی ہے لیکن فی الفور ترجیح پھنسے ہوئے لوگوں تک امداد پہنچانا ہے جو شدید موسم اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

Image caption آنے والے دنوں میں بارش کی پیش گوئی کی جارہی ہے

امدادی کارروائیوں میں ٹیموں کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ ڈاکٹروں کو پہاڑی علاقوں کی جانب ضرورت مندوں کی امداد کے لیے روانہ کیا جا رہا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ 60 برسوں کے ریکارڈ کے مطابق اس سال مون سون کے شروع میں ہونے والی بارشیں سب سے زیادہ ہیں۔

ریاست کے وزیراعلیٰ وجے بہوگنا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کے مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے وزیر داخلہ سوشیل کمار شنڈے کے اس دعوے کی تردید بھی کی ہے کہ امدادی کام میں ہم آہنگی نہیں ہے۔

دریں اثناء ہندوؤں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر علاقہ، کیدارناتھ سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے اور مزید لاشوں کی تلاش جاری ہے۔

بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ امدادی کاموں میں سب بڑی مشکل دشوار گزار پہاڑی علاقہ اور لگاتار خراب موسم ہے۔

خوراک اور پینے کے پانی کی قلت کے ساتھ دوسری ضروری چیزوں کی کمی کے بارے میں بھی شکایتیں عام ہیں۔

اس سیلاب میں 1751 عمارتیں اور 147 پلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ مختلف مقامات پر 1307 جگہ سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں۔

73 ہزار لوگوں کو سڑک اور ہوائی راستوں سے محفوظ ٹھکانوں تک پہنچایا گیا ہے۔ کئی جگہ لوگوں کی آمدورفت کے لیے عارضی پل تیار کیے گئے ہیں اور پورے علاقے میں مواصلات کا نظام بحال کر دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے اس قومی بحران سے نمٹنے کے لیے ایک ہزار کڑور کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس میں تقریباً ڈھیر سو کروڑ کی رقم فوری جاری کر دی گئی ہے۔ دوسری ریاستوں سے بھی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔

اسی بارے میں