کشمیر: مسلح حملے میں دو فوجی ہلاک

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے دورے سے ایک روز قبل مسلح حملوں میں شدت آئی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے مجوزہ دورے سے قبل دو مسلح حملوں میں دو پولیس اہلکار اور دو فوجی مارے گئے۔

پیر کو تازہ حملہ سرینگر کے نواحی علاقہ حیدرپورہ میں ہوا، جہاں پولیس ذرائع کے مطابق مسلح افراد نے بھارتی فوج کے قافلے پر فائرنگ کی۔

ذرائع نے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرورکو بتایا کہ اس حملے میں دو فوجی اہلکار مارے گئے۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ علاقہ کو سیل کر دیا گیا اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو پایا ہے کہ آیا حملہ آوروں نے کسی مکان یا عمارت میں پناہ لی ہے۔

جائے واردات سے تھوڑی دور مشتبہ عسکریت پسندوں نے نیم فوجی ادارے سی آر پی ایف کے اہلکاروں پر فائرنگ کی جس میں ایک سب انسپکٹر لالہ رام زخمی ہو گئے۔

اس سے قبل سنیچر کو بھی سرینگر کے مصروف ہری سنگھ بازار میں دو پولیس اہلکاروں کو مشتبہ افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

یہ حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ منگل کو وادی کا دورہ شروع کر رہے ہیں۔ وہ کشمیر میں ایک ہزار تین سو کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی بارہ کلومیٹر طویل ریلوے سرنگ کا افتتاح کریں گے۔ یہ سرنگ کشمیر کو بھارت کے وسیع ریلوے نیٹ ورک کے ساتھ جوڑے گی۔

واضح رہے وزیراعظم منموہن سنگھ کے دورے کے خلاف علیحدگی پسندوں نے پہلے ہی ہڑتال کی کال دی ہے۔ یاسین ملک اور سید علی گیلانی نے منموہن سنگھ کو کشمیریوں کے قتل عام کا خاموش تماشائی اور بنیادی ذمہ دار قرار دیا ہے اور اس دورے کے موقع پر کشمیریوں سے معمولاتِ زندگی معطل رکھنے کی اپیل کی ہے۔

ایک ایسے وقت جب کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح گھٹ گئی ہے، یہ حملے کشمیر میں قیام امن کے دعوؤں کو مشکوک بنا رہے ہیں۔

اسی بارے میں