انڈیاسیلاب: 800 ہلاک، امدادی آپریشن دوبارہ شروع

Image caption دشوار گزار راستے اور خراب موسم امدادی کاموں میں سب سے بڑا مسئلہ ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں بارش کے سبب آنے والے سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ سو سات ہوگئی ہے جبکہ اب بھی بڑی تعداد میں لوگ لا پتہ بتائے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق منگل کے روز کیدار ناتھ کے علاقے سے ایک سو ستائیس مزید لاشیں بر آمد ہوئی ہیں اور اس طرح ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ سو سے تجاوز کر گئی۔

ادھر حکام نے کیدارناتھ کے مختلف مقامات سے ملی بہت سی مسخ شدہ لاشوں کی اجتماعی آخری رسومات ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو سڑنے کے سبب فضاء کو خراب کر رہی تھیں۔

حکام نے لاشوں کی شناخت کے لیے ان کا ڈی این اے اور تصاویر لینے کا حکم دیا ہے اور آخری رسومات کے لیے مقامی سادھو سنتوں کی مدد لی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارہ پریس ٹرسٹ آف اندیا کے مطابق گزشتہ رات اور منگل کی صبح تیز بارشوں کے سبب امدادی کارروائیاں متاثر ہوئیں لیکن دوپہر بعد بارش رکنے کے سبب فضائیہ نے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق مختلف علاقوں میں اب ابھی تقریبا چھ ہزار افراد پھنسے ہوئے ہیں لیکن اس میں سے بیشتر لوگ بدھری ناتھ کے مقام پر ہیں جنہیں جلد ہی نکال لیا جائیگا۔

ایسے بیشتر لوگ عارضی کیموں میں ٹھہرے ہوئے ہیں جنہیں کھانا اور پانی اوپر سے پہنچایا جاتا رہا ہے۔

اتراکھنڈ میں بارشوں اور سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ کتنے لوگ ہلاک اور لاپتہ ہیں اور کس پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

اتوار کو اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ وجے بہوگنا نے کہا تھا کہ ہلاکتیں ایک ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس علاقے کے بارے میں طویل مدتی تعمیر نو کا پروگرام تیار کر رہی ہے لیکن فی الفور ترجیح پھنسے ہوئے لوگوں تک امداد پہنچانا ہے جو شدید موسم اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ 60 برسوں کے ریکارڈ کے مطابق اس سال مون سون کے شروع میں ہونے والی بارشیں سب سے زیادہ ہیں۔

اسی بارے میں