’عشرت جہاں کو فرضی مقابلے میں مارا گیا‘

Image caption انیس برس کی عشرت جہاں ممبئی کے ایک کالج کی طالبہ تھی, 2004 میں عشرت کو تین دیگر افراد کے ساتھ احمدآباد کے مضافات میں پولیس نے ہلاک کر دیا تھا

بھارت میں سال 2004 میں عشرت جہاں کی موت کے معاملے میں سی بی آئی نے بھارت کے مغربی شہر احمد آباد میں ایڈیشنل میجسٹریٹ کے سامنے چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔

سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ عشرت جہاں اور تین دیگر افراد کو فرضی مقابلے میں مارا گیا۔ حالانکہ سی بی آئی نے اس دعوے پر کچھ نہیں کہا ہے کہ یہ چاروں افراد مبینہ طور پر دہشت گرد تھے یا نہیں۔

چارج شیٹ میں گجرات کے نو سینیئر پولیس افسران کے نام ہیں، جن میں ڈی جی ونجارا اور پی پی پانڈے کے نام بھی شامل ہیں۔

سی بی آئی کی چارج شیٹ پر اپنے ردعمل میں عشرت جہاں کی ماں نے کہا کہ وہ شروع سے ہی یہ کہتی آ رہی تھیں کہ ان کی بیٹی بے گناہ ہے اور اب یہ بات ثابت ہو گئی ہے۔

عشرت جہاں کی بہن نصرت نے کہا:’میری بہن دہشت گرد نہیں تھی۔ وہ ایک اچھی طالبہ تھی۔ ہم جو کہہ رہے تھے، وہ نو سال بعد صحیح ثابت ہوا ہے۔‘

دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی نے سی بی آئی کی چارج شیٹ پر سوال اٹھائے ہیں۔

پارٹی کے ترجمان نرملا سيتارمن نے کہا کہ ایک وقت سی بی آئی نے اپنے حلف نامے میں عشرت اور دیگر تین لوگوں کو ’دہشت گرد‘ تصور کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مرکز کو دہشت گردی پر سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ نرملا سيتارمن نے کہا کہ سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں لشکر کے کردار کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اس معاملے پر مرکز کا کیا رخ ہے؟ جب بھی آئی بی کوئی معلومات ریاستی حکومتوں کو دیتی ہے، اسے مرکزی حکومت کو بھی فراہم کیا جاتا ہے۔‘

مرکزی تفیتیشی بیورو یعنی سی بی آئی کا کہنا ہے کہ جون 2004 میں احمدآباد کے نواح میں ہونے والا یہ واقعہ دراصل ایک جعلی تصادم تھا اور جن لوگوں کو لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ہلاک کیا گیا تھا وہ دراصل پہلے سے ہی پولیس اور خفیہ ایجبنٹوں کی تحویل میں تھے۔

اس سلسلے میں سی بی آئی نے انٹیلیجنس بیورو کے ایک سپیشل ڈائریکٹر سے بھی پو چھ گچھ کی۔اس دوران سی بی آئی کے تفتیش کاروں کو موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔

اس دوران گجرات ہائی کورٹ نے ریاستی پولیس کے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پی پی پانڈے کی پیشگی ضمانت کی درخواست کو مستر کر دیا۔سی بی آئی انہیں تلاش کر رہی ہے اور عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا ہے۔

انیس برس کی عشرت جہاں ممبئی کے ایک کالج کی طالبہ تھی۔ 2004 میں عشرت کو تین دیگر افراد کے ساتھ احمدآباد کے مضافات میں پولیس نے ہلاک کر دیا تھا۔

حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ کانگریس سی بی آئی کو نریندر مودی کی حکومت کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

پارٹی کے سینیئر رہنما ارون جیٹلی نے کہا’صرف عشرت کے ہی نہیں کئی دوسرے معاملوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سی بی آئی ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہے۔‘

لیکن کانگریس نے اس الزام کوم مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کے رہنما دگ وجے سنگھ کہتے ہیں کہ ’اگر گجرات کی حکومت کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ پھر تفتیش سے ڈر کیوں رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں