بہار: مندر دھماکوں میں ایک شخص زیرِ حراست

Image caption ابھی تک کسی تنظیم یا گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے

بھارت کے وفاقی تفتیش کاروں نے مشرقی ریاست بہار میں بدھ مت کے پیروکاروں کی تاریخی عبادت گاہوں پر اتوار کو ہونے والے دھماکوں کے سلسلے میں ایک شخص کو حراست میں لیا ہے۔

ریاست بہار کے علاقے گایا میں بدھ مت کی تاریخی عبادت گاہ مہا بدھی میں ہونے والے نو دھماکوں میں دو افراد زخمی ہوئے تھے۔

بھارت کے جونیئر وزیرِ داخلہ آر پی سنگھ نے ان دھماکوں کی دہشت گردی کی کوشش قرار دیا۔

ابھی تک کسی تنظیم یا گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

بھارتی ریاست بہار کے دارالحکومت پٹنا سے 130 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔

اس میں بدھ مت کی تاریخی اہمیت کی حامل عبادت گاہیں موجود ہیں جہاں ہزاروں زائرین ہر سال اس تاریخی عبادت گاہوں میں آتے ہیں۔

بہار پولیس کے ایک سینئیر اہلکار کا کہنا ہے کہ چار دھماکے مزار کے اندر، تین قریبی خانقاہ، ایک بدھا کے مجمسمے اور ایک بس اڈکے کے قریب ہوا۔

اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت نے دارالحکومت نئی دہلی سمیت آٹھ شہروں میں واقع بدھ مت کے پیروکاروں اور ان کی مذہبی عبادت گاہوں کو محفوظ بنانے کے لیے وارننگ جاری کی تھی۔

ادھر بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے بدھ مت کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے عبادت گاہ پر حملہ کرنے کے خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں بدھ مت کے پیروکاروں کی تاریخی عبادت گاہوں کے باہر اتوار کو یکے بعد دیگرے آٹھ دھماکوں میں دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دھماکے ہلکی نوعیت کے تھے اس لیے زیادہ نقصان نہیں ہوا ۔

مہا بدھی مندروں کی کمیٹی کے ایک عہدایدار نے بی بی سی ہندی کو بتایا تھا کہ دھماکوں کی شدت کم تھی اور اس سے مندروں کی عمارتوں کو نقصان نہیں پہنچا۔

اسی بارے میں