آسام میں سیلاب سے چار سو گاؤں متاثر

Image caption آسام کا دھیماجی ضلع بری طرح متاثر ہے

بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب سے دو لاکھ پچاس ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ریاست کے ستائیس اضلاع میں سے گیارہ اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں۔ان گیارہ اضلاع میں چار سو دیہات میں لوگوں کو سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہے۔

آسام سے متصل ریاست اروناچل پردیش میں شدید بارش کی وجہ سے آسام میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وہاں گزشتہ تین دنوں سے مسلسل بارش ہو رہی ہے۔

ریاستی آفات مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام کے مطابق جيادول ندی میں پانی کی سطح میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ سے اروناچل پردیش کی سرحد سے ملا ہوا آسام کا دھیماجی ضلع بری طرح متاثر ہے۔

اس ضلع کے پینتیس سے زیادہ گاؤں سیلاب کے پانی میں ڈوب گئے ہیں اور وہاں کے ہزاروں لوگوں کوگھر بار چھوڑ کر جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر جانا پڑا ہے۔

گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے سارے بند ٹوٹ کر بہہ گئے ہیں۔ اس سے قبل پےلے آنے والے سیلاب میں ندی کے متاثرہ بند کی سیلاب کی وجہ سے مرمت نہیں ہو سکی تھی۔

سیلاب کی وجہ سے سڑکیں ٹوٹ گئی ہیں۔ اور ان علاقوں کا ریاست کے دیگر حصوں سے سڑک کے ذریعے رابطہ منقطع ہو گيا ہے۔

حکام کے مطابق کئی مقامات پر بند اور ان کے اوپر بنے پل بہہ گئے ہیں، سیلاب کی وجہ سے گولا گھاٹ ضلع میں چھ سڑکیں اور ایک پل ٹوٹ گیا ہے۔

كريم گنج ضلع کے مدن پور اور چاندپور میں ندی پر بنے بندوں میں شگاف آ گئے ہیں۔

علاقے کی سب سے بڑی برہم پتر ندی جورہٹ کے نیمتي گھاٹ کے مقام پر خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہے۔

آسام کے شمالی علاقے کے اضلاع جورہٹ، لکھیم پور اور سونتپور میں ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔

اسی بارے میں