جھارکھنڈ میں حضرت مریم کے مجسمے پر تنازع

Image caption حضرت مریم اور نونہال عیسی مسیح قبائيلی شکل میں

بھارت کی مشرقی ریاست جھارکھنڈ میں حضرت مریم اور نونہال حضرت عیسیٰ کے مجسمے پر تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

صحافی امرناتھ تیواری کے مطابق اس مجسمے میں حضرت مریم اور نونہال حضرت عیسیٰ کو قبائلیوں کے حلیے میں پیش کیا گیا ہے جس پر غیرعیسائی قبائلی گروہوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

اس مجسمے میں حضرت مریم کو لا کناری والی ایک سفید ساڑی، لال بلاؤز، گلے میں ہار اور چوڑیاں پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ان کے گلے سے لپٹے کپڑے میں نونہال حضرت عیسیٰ کو دکھایا گیا۔

امرناتھ تیواری کا کہنا ہے کہ اس مجسمے پر لوگوں میں حیرت اور غصے کا ملاجلا ردعمل ہے۔

دارالحکومت رانچی سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر سنگھ پورگاؤں کے کلیسا میں لگائے گئے اس مجسمے کی نقاب کشائی گزشتہ 26 مئی کو کارڈنل ٹیلسفور پی ٹوپو نے کی تھی۔

لیکن مجسمے کی نقاب کشائی کے بعد سے ہی اس پر غیرعیسائی قبائلی گروپوں کی جانب سے غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اس کے ہٹائے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

کچھ لوگوں نے اس مجسمے کے ہٹائے جانے کے مطالبے پر گزشتہ ماہ 17 جون کو دارالحکومت رانچی میں ایک احتجاجی ریلی بھی نکالی تھی۔

غیر عیسائی قبائلیوں کی نمائندہ جماعت سرنا سوسائٹی کے صدر بندھن ٹگّا نے کہا: ’ریاست میں یہ پہلا موقعہ ہے جب حضرت مریم اور نونہال حضرت عیسیٰ کو قبائلی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ آخر اس کی ضرورت کیا تھی؟‘

جھارکھنڈ کی 86 لاکھ آبادی میں 27 فیصد قبائلی ہیں اور ان میں سے صرف تین فیصد عیسائی ہیں۔

مسٹر ٹگّا کا کہنا تھا کہ ’حضرت مریم کو قبائلی کے طور پر پیش کرنا ایک بڑی سازش ہے تاکہ قبائلی عوام کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ وہ ان کی برادری سے ہی تعلق رکھتی تھیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اگلے 100 سالوں میں یہاں کی عوام کو یہ یقین ہو جائے گا کہ حضرت مریم ایک قبائلی دیوی تھیں۔ یہ اقدام سرنا برادری کے لوگوں کو عیسائی مذہب کی طرف لے جانے کی سازش ہے۔‘

بندھن ٹگّا نے بتایا کہ انہوں نے مقامی پادری سے درخواست کی ہے کہ وہ اس مجسمے کو ہٹا دیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو اس کے خلاف ملک گیر احتجاج کیے جائیں گے۔

دوسری جانب عیسائی قبائلیوں کو اس مجسمے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جھارکھنڈ کے شہری ہونے پر ان کے پاس بھی ’مساوی حقوق‘ ہیں اور وہ بھی لال کناری والی سفید ساڑی جیسے قبائلی لباس پر حق رکھتے ہیں۔

Image caption گزشتہ ماہ اس مجمسمے کے خلاف رانچی میں ریلی نکالی گئي تھی اور سرنا برادری کی جانب سے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دی گئي ہے

رانچی میں آرچ بشپ ہاؤس کے پادری آگسٹين كركیٹا نے کہا: ’اس میں غلط ہی کیا ہے؟ یہ ویسا ہی ہے جیسے چینی، جاپانی، آئرش، جرمن اور افريقي باشندے حضرت مریم اور نونہال حضرت عیسیٰ کو اپنے اپنے اعتبار سے پیش کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ہر جگہ کی مقامی ثقافت کا اثر ایسی چیزوں پر پڑتا ہی ہے۔

اس وقت کارڈینل ٹیلسفور پی ٹوپو روم میں ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں پادری آگسٹين كركیٹا کو غیرعیسائی گروہوں کے ساتھ بات چیت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔

پادری آگسٹين ان احتجاجی مظاہروں کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں غیر عیسائی برادری کے کچھ ہی لوگ اس مجسمے کے خلاف ہیں۔

انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کچھ سیاستدانوں کا ان احتجاجی مظاہروں کے پیچھے ہاتھ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’آئندہ سال عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کچھ لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے عیسائی اور غیر عیسائی فرقوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوشش تو کریں گے ہی۔‘

تاہم انہیں امید ہے کہ 14 جولائی کو اس معاملے پر ہونے والی اگلی میٹنگ میں وہ کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لیں گے۔

اسی بارے میں