سیاست میں مجرموں کا کیا کام؟

Image caption بھارتی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نصف سے زیادہ ارکان کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مقدمات ہیں

کچھ عرصے پہلے امریکہ کی کسی ریاست میں ایک چھوٹی سی خبر اخباروں میں شائع ہوئی تھی جس کے مطابق مقامی انتطامیہ نے ایک شخص کی شراب کی دکان کا لائسنس اس وجہ سے منسوخ کر دیا تھا کہ انھوں نے ایک بار شراب پی کر کسی سے لڑائی کی تھی۔

امریکہ میں قانون کے تحت کسی ایسے شخص کو شراب کی فروخت کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا تھا جس نے شراب کے نشے میں کبھی کوئی ہلڑ بازی کی ہو۔

مقامی انتطامیہ کو اس شخص کو لائسنس دیے جانے کے اٹھارہ برس بعد اس واقعے کا پتہ چلا اور معلوم ہوتے ہی دکاندار کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا اس کے باوجود کہ اس مدت میں اس شخص کا ریکارڈ بے داغ رہا تھا۔ اسے کہتے ہیں قانون کی حکمرانی۔

امریکہ اور یورپی ممالک کے بر عکس اگر بھارت پر نظر ڈالیں تو کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے قوانین ایک جمہوری نظام حکومت کے لیے نہیں بلکہ صرف خلاف ورزیوں کے لیے بنائےگئے ہوں۔

بھارت میں ایک طویل عرصے سے یہ تحریک چل رہی تھی کہ معاشرے میں بد عنوانی، بے ایمانی اور جرائم پر قابو پانے کے لیے سیاست میں جرائم کی آمیزش پر پابندی لگائی جائے۔

اطلاعات کے مطابق ملک کی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نصف سے زیادہ ارکان کے خلاف مجرمانہ نوعیت کے مقدمات ہیں۔

ان میں کئی ایسے ہیں جنھیں اغوا، قتل اور ریپ جیسے سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سیاست دانوں کے خلاف مظاہروں اور دھرنوں کے دوران اکثر حکومتیں حریف سیاست دانوں کے خلاف مختلف نوعیت کے مجرمانہ مقدمات درج کر لیتی ہیں۔

اکثر اوقات مقامی رہنماؤں کے خلاف سیاسی رقابت میں دوسری جماعتوں کے رہنما بھی اپنے حامیوں کے توسط سے اغوا، چھیڑ خانی اور اقدام قتل جیسے جھوٹے مقدمات درج کرا دیتے ہیں۔بھارتی پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں کے ارکان کے خلاف بیشتر معامالات اسی نوعیت کے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ قانون کی پاسداری نہ ہونے اور قانون میں لچک کے سبب گزشتہ کچھ برسوں میں بڑی تعداد میں پارلیمان، ریاستی اسمبلیوں اور سیاست میں جرائم پیشہ افراد بھی داخل ہوئے ہیں۔

سیاست کی جانب جرائم پیشہ افراد کے راغب ہونے کا سب سے بڑا سبب یہ رہا ہے کہ سیاست دانوں نے خود کو اس قدر اختیارات دے دیے کہ وہ قانون سے بالا ترسبجھے جانے لگے۔ دوسرے یہ کہ سیاست تیزی سے دولت حاصل کرنے کا ایک آسان ذریعہ بن گئی ہے۔

پچھلے دنوں بھارت کی سپریم کورٹ نے اپنے دو فیصلوں سے وہ کام کر دیا جو پارلیمان کو بہت پہلے کر لینا چاہیئے تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے ان تمام افراد اور ارکان کو انتخاب لڑنے کا نہ اہل قرار دے دیا جنھیں ذیلی عدالت کسی مجرمانہ معاملے میں سزادے چکی ہو۔ ایسے رہنما اور افراد جو جیل میں ہیں اور ان کے مقدمات زیرِ سماعت ہیں اب وہ انتخاب نہیں لڑ سکیں گے۔

ان فیصلوں سے سیاست میں جرائم کی آمیزش پر نہ صرف کافی حد تک روک لگ جائے گی بلکہ اب سیاسی رہنما بھی ایسی حرکتوں سے باز رہنے کی کوشش کریں گے جو انہیں پوری زندگی سیاست سے محروم کر سکتی ہیں۔

سیاست میں شفافیت کی طرف یہ پہلا جامع قدم ہے ۔ لیکن حکومت کی جوابدہی کے لیے ایک موثر لوکپال کے قیام اور سی بی آئی جیسے اداروں کو غیر جانبدار اور سیاسی طور پر آزاد بنانے کا عمل ابھی باقی ہے ۔

اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود عدلیہ جوابدہی، شفافیت اور ایمانداری کے لیے اسی طرح کے ضابطے اپنے لیے بھی وضع کرے ۔

اسی بارے میں