کشمیر: یوم شہدا پر ہڑتال اور محاصرے

Image caption حزب اختلاف کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ کشمیر کو قیدخانے میں تبدیل کر دیا گيا ہے جس سے ان کی زندگی مشکلات سے دو چار ہے

سنہ اٹھارہ سو چھیالیس میں تاج برطانیہ نے کشمیر میں مہاراجہ گلاب سنگھ کو ’بادشاہ‘ بنا دیا۔

اس طرح وادی میں برطانوی اقتدار کے تحت ڈوگرہ بادشاہت کا صد سالہ دور شروع ہوا۔

بیسویں صدی کے آغاز میں ہی ڈوگرہ شاہی کی زیادتیوں، استحصال اور مسلم کش پالیسی کے خلاف عوامی مزاحمت کا آغاز ہوا۔

تیرہ جولائی اُنیس سو اکتیس کو سرینگر کی سینٹرل جیل کے قریب ڈوگرہ فورسز نے ایک پٹھان مزاحمت کار عبدالقدیر کی سرعام سماعت کے دوران درجنوں مسلمانوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ اس واقعہ کے خلاف کشمیر کے شمال و جنوب میں مظاہرے ہوئے اور مظاہرین پر فائرنگ کی وجہ سے متعدد کشمیری مارے گئے۔

ان میں سے اکثر کو سرینگر کے خواجہ بازار میں واقع ’مزار شہدا‘ میں دفن کیا گیا تاہم بعض کشمیری ہندوؤں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار کی گئی تھی۔

اس تحریک میں موجودہ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کے دادا شیخ محمد عبداللہ پیش پیش تھے۔ انہوں نے مسلم کانفرنس قائم کر لی جو چند سال بعد انڈین کانگریس کے زیراثر نیشنل کانفرنس بن گئی۔

محمد عبداللہ نے اُنیس سو چھیالیس میں ڈوگرہ شاہی کے خلاف ’ کشمیر چھوڑ دو‘تحریک شروع کردی۔

ایک سال بعد جب برٹش انڈیا تقسیم ہوگیا تو کشمیر میں مہاراجہ نے اقتدار نہیں چھوڑا۔ ڈوگرہ اقتدار کے تحت ہی شیخ عبداللہ نے ہنگامی ناظم کا عہدہ سنبھالا اور اس طرح نیشنل کانفرنس اور عبداللہ خانوادے کے طویل اقتدار کا دور بھی شروع ہوا۔

تیرہ جولائی کے واقعہ کو نیشنل کانفرنس اور اس کے زعماء اپنی سیاسی تاریخ کا ’کارنر سٹون‘ سمجھتے ہیں۔ سنیچر کو اس سلسلے میں سرینگر کے ’مزار شہدا‘ میں تقریب منعقد ہوئی۔

وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے خاموشی سے فاتحہ پڑھی اور چلے گئے۔ ان کے وزیر علی محمد ساگر نے میڈیا کو بتایا:’ یہ شہید شیخ محمد عبداللہ کی قربانی کے گواہ ہیں۔‘

Image caption علحیدگی پسندوں نے ہڑتال کی کال دی جبکہ فورسز نے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا

قابل ذکر ہے کہ تیراسی سال قبل تیرہ جولائی کے روز مارے گئے کشمیریوں کو حکومت اور علیحدگی پسند دونوں ہی شہید تصور کرتے ہیں۔

حکومت میں شامل رہنما خود سخت سکیورٹی حصار میں فاتحہ خوانی میں شریک ہوتے ہیں لیکن علیحدگی پسندوں کو جیلوں یا گھروں میں نظر بند رکھا جاتا ہے۔ مزار شہدا کے ارد گرد سنیچر کو بھی حسب روایت ناکہ بندی تھی۔

حزب اختلاف کے رہنما مفتی محمد سعید نے بھی ’مزار شہدا‘ پر حاضری دی۔ انہوں نے کہا:’ کشمیر کو قیدخانے میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس ماحول کو اگر بدلنا ہے تو لوگوں کو ہمیں ووٹ دینا ہوگا۔‘

سابق عسکری کمانڈر جاوید احمد میر اور درجنوں دوسرے کارکنوں کو لال چوک میں اُس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ ’مزار شہدا‘ کی طرف جا رہے تھے۔

جاوید میر نے پولیس تھانے سے فون کر کے بی بی سی کو بتایا: ’حکومت نے منافقانہ پالیسی روا رکھی ہے۔ خود تو شہدوں کی قبروں پر پھول چڑھاتے ہیں اور فوٹو بنواتے ہیں لیکن یہی کام جب ہم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں گرفتار کیا جاتا ہے۔‘

انٹرنیٹ پر بھی نوجوانوں نے’یوم شہدا ‘کے موقع پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔

توصیف نامی ایک نوجوان نے ٹوئٹر پر لکھا تھا:’مہاراجوں کی یاد میں ہسپتال، کالج، بازار اور باغات کے نام رکھے گئے ہیں اور یہی حکومت مہاراجوں کے خلاف تقریریں کرتی ہے۔‘

اخباروں نے بھی اس بارے میں تبصرے کیے۔ مقامی انگریزی روزنامہ گریٹرکشمیر کی شہ سُرخی تھی: ’اُنیس اکتیس: یہ کس کے شہدا ہیں۔‘

دریں اثناء یوم شہدا کے موقعہ پر سرکاری تعطیل رہی اور علیحدگی پسندوں کی کال پر ہڑتال کی گئی۔

اسی بارے میں