ایک اور ’تاج محل‘

Image caption ان کی غیر معمولی داستان محبت کا ذکر ضرور آئے گا:فیض الحسن قادری

سترویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیگم ممتاز محل کی یاد میں تاج محل تعمیر کرایا تھا، فن تعمیر کے اس بے مثال نمونے کو آج بھی لافانی محبت کی علامت مانا جاتا ہے۔

لوگ تاج محل دیکھنے آتے ہیں اور خود بہ خود شاہ جہاں اور ممتاز محل کی بے پناہ محبت کا ذکر ہوتا ہے۔

لیکن اب بھارت میں ایک اور تاج محل زیرِ تعمیر ہے اور محبت کی ایک نئی داستان جنم لے رہی ہے۔

یہ ‘تاج محل‘ اصل سے ذرا چھوٹا ہے، کافی چھوٹا، کسی خوبصورت دریا کے کنارے بھی نہیں، نہ اس میں کندہ کاری کا کام ہے اور نہ یہ قیمتی پتھروں سے مزین ہے، بس جذبہ وہی ہے جو شاہ جہاں کا تھا یعنی بے پناہ محبت۔

شاہ جہاں ہی کی طرح یہ عمارت اب ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر فیض الحسن قادری کی زندگی کا مقصد بن گئی ہے۔ وہ آگرہ سے تقریباً سو میل دور بلند شہر کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتے ہیں، انھوں نے اپنی اہلیہ تجملی بیگم سے ایک وعدہ کیا تھا:

’ہماری کوئی اولاد نہیں تھی جس کی وجہ سے میری اہلیہ کو یہ فکر رہتی تھی کہ مرنے کے بعد ہمارا کوئی ذکر بھی نہیں کرے گا، کوئی نام لینے والا نہیں ہوگا۔ اس لیے میں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر ان کا انتقال مجھ سے پہلے ہوگیا تو میں ان کے لیے ایسا مقبرہ بنواؤں گا کہ لوگ برسوں یاد رکھیں۔ہم نے ساڑھے اٹھاون سال ساتھ گزارے، اب وہ ہر وقت میرے خیالوں میں چھائی رہتی ہے‘۔

Image caption اپنے کمرے کی کھڑکی سے فیص الحسن بھی اپنا تاج دیکھ سکتے ہیں

فیض الحسن قادری معمولی حیثیت کے مالک ہیں لیکن اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

تجملی بیگم کو گزرے ابھی صرف ڈیڑھ سال ہوا ہے، لیکن ان کی یادگار پر آدھے سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے۔

فیض الحسن کہتے ہیں کہ کام مکمل ہونے کے بعد یہ عمارت اصل تاج محل کی صرف ایک پرچھائیں ہوگی، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

’بس یہ ہے کہ میناروں اور گنبد کی وجہ سے یہ عمارت تاج محل جیسی نظر آتی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ہم نے اصل تاج محل بنانے کی کوشش نہیں کی ہے، وہ نہ کبھی بن سکتا ہے اور نہ کوئی بنا سکتا ہے۔ کچھ لوگ شروع میں کہتے تھے کہ یہ پیسے کا زیاں ہے، لیکن اب اس عمارت کو اتنی شہرت مل رہی ہے کہ کوئی کچھ نہیں کہتا‘۔

فیض الحسن کی کھیتی کی زمین کا ایک حصہ، ان کی بیوی کا زیور اور ان کی اپنی بچت، سب اس یادگار کی نذر ہو چکے ہیں۔ ان کی عمر 77 سال ہے اور اب ان کے پاس وقت اور وسائل دونوں کی کمی ہے، لیکن وہ کسی سے کوئی مدد نہیں لیتے۔

’اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کسی پیر کا مزار یا کوئی خانقاہ یا عبادت گاہ نہیں ہے۔ یہ میری بیوی کا مزار ہے، اور اگر میں کسی سے کوئی پیسہ لے کر اس میں لگاؤں تو یہ ہوگا کہ قبر چندے کی ہے اور یہ میں نہیں چاہتا‘۔

جس طرح آگرہ کے قلعے سے تاج محل صاف نظر آتا ہے، اسی طرح اپنے کمرے کی کھڑکی سے فیص الحسن بھی اپنا تاج دیکھ سکتے ہیں۔

اور جیسے جیسے اس نئے تاج محل کی خبر پھیل رہی ہے آس پاس کے دیہات سے لوگ اسے دیکھنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

تاج محل دیکھنے کے لیے آنے والے ایک شخص کے مطابق: ’مجھے تو یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ یہاں پر بھی تاج محل بنا ہے۔ یہ بالکل اصل کی طرح ہے۔ انھوں نے یہ عمارت بنوا کر بہت اچھا کام کیا ہے، جو آگرہ نہیں جا سکتا، وہ کم سے کم یہیں دیکھ لے۔ایسی محبت کے قصے تو بس کتابوں میں ہی پڑھنے کو ملتے ہیں‘۔

فیض الحسن اور ان کے تاج محل کا ذکر کبھی افسانوں میں تو نہیں ہوگا لیکن ان کے جانے کے بعد بھی جب لوگ اس عمارت کو دیکھیں گے، ان کی غیر معمولی داستان محبت کا ذکر ضرور آئے گا۔

اسی بارے میں