’ شراب والی رقص گاہیں کھولی جائیں‘: سپریم کورٹ

Image caption پابندی لگنے سے پہلے ان لگ بھگ چودہ سو ناچ گھروں سے ایک لاکھ عورتوں کا روزگار وابستہ تھا

بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ ملک کی مغربی ریاست مہاراشٹرا اور اس کے دارالحکومت ممبئی میں شراب والی رقص گاہیں دوبارہ کھولی جاسکتی ہیں۔

سنہ دو ہزار پانچ میں ریاستی حکومت نے ان رقص گاہوں پر یہ کہہ کر پابندی عائد کر دی تھی کہ یہ رقص گاہیں جرائم اور جسم فروشی کے اڈے بھی ہیں اور نوجوانوں میں بے راہ روی کا سبب بنتے ہیں۔

رقص گاہوں کے مالکان اور رقاصاؤں نے اس پابندی کی شدید مذمت کی تھی۔

مہاراشٹرا کے ان ڈانس بارز میں رقاصائیں بالی ووڈ کی فلموں کے گانوں پر رقص پیش کرتی تھیں اور ان پر شائقین پیسے لٹاتے تھے۔

پابندی لگنے سے پہلےلگ بھگ چودہ سو رقص گاہوں سے ایک لاکھ عورتوں کا روزگار وابستہ تھا۔

ریاستی حکومت کی جانب سے اس پابندی کو اپریل دو ہزار چھ میں ممبئی میں ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا تاہم ریاستی حکومت کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ میں اپیل کی گئی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ فیصلہ آنے تک یہ رقص گاہیں بند رہیں گی۔

منگل کو چیف جسٹس التماس کبیر اور جسٹس ایس ایس نجار نے کہا کہ یہ رقص گاہیں دوبارہ لائنسوں کے لیے درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں اور کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔