زیتون کا تیل پیدا کرنے کا بھارتی منصوبہ

Image caption بھارت کی ریاست راجھستان میں ستمبر کے دوران زیتون کے تیل کی تجارتی پیدا وار شروع ہو جائے گی

بھارت کی مغربی صحرائی ریاست راجھستان کے ایک کھیت میں قطار در قطار گھنے سرسبز درختوں کے پتے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اس کھیت میں کام کرنے والا ایک شخص گھٹنوں کے بل بیٹھ کر تیز ہوا کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک درخت کی پتلی شاخ جس پر کچھ زیتون موجود ہیں کو پکڑ رہا ہے۔

اس شخص کا کہنا ہے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ زیتوں ابھی سبز ہیں تاہم آہستہ آہستہ یہ لال ہو جائیں گے اور اس کے چند ماہ بعد فصل کانٹنے کے وقت ان سے تیل بنایا جا سکے گا۔

بھارت کی ریاست راجھستان میں ستمبر کے دوران زیتون کے تیل کی تجارتی پیدا وار شروع ہو جائے گی۔

اس پیدا وار کے ذریعے بھارت بین الاقوامی طور پر زیتون کا تیل پیدا کرنے والے حریف ممالک سپین، اٹلی اور یونان سے آگے جانا چاہتا ہے۔

بھارتی حکومت کی سرپرستی میں چلنے والی راجھستان زیتون ایجنسی میں کام کرنے والے یوگیش ورما کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 سے ریاست کی ہر سرکاری اور پرائیوٹ زمین پر ہر 260 ہیکٹرز کے فاصلے پر 1,44,000 زیتون کے درخت لگائے گئے۔

ورما کے مطابق سنہ 2007 تک کسی کو اس بارے میں یقین نہیں تھا یہاں زیتون کی پیداوار ہو سکی گی لیکن اب آپ دیکھیں کہ صورتِ حال کتنی بدل گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ تو شروعات ہے، ہم اگلے تین برسوں میں اس منصوبے کو 5,000 ہیکڑز پھیلانا چاہتے ہیں۔

Image caption بھارت کی ریاست راجھستان میں زیتون کے درختوں کی تعداد بڑھانے کی دگنی صلاحیت ہے

ان کا کہنا تھا کہ متعدد کسانوں نے اس سے پہلے کبھی زیتون کے بارے میں سنا نہیں تھا۔

راجھستان کی حکومت زیتون کی پیداور بڑھانے کی ترغیب دینے کے لیے کسانوں کو مراعات دے رہی ہے۔

بھارت میں زیتون کا ایک درخت لگانے میں 2.19 امریکی ڈالر یا 130 بھارتی روپے کی لاگت آتی ہے تاہم کسان اس کے لیے صرف 28 بھارتی روپے ادا کرتے ہیں۔

باون سالہ سہابھرم دہائیوں سے گندم اور روئی اگا رہے ہیں جس کے لیے پانی کی وافر مقدار کی ضرورت ہوتی ہے تاہم اس سال اپریل میں انھوں نے اپنے کھیت میں دس ہیکٹرز کے فاصلے پر زیتون کے درخت لگائے۔ وہ رواں برس اگست میں اپنے کھیت میں مذید پانچ ہیکڑز پر زیتون کے درخت لگانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ راجھستان میں پانی کی قلت ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ زیتون کے درخت 100 سے 150 برس تک قائم رہتے ہیں اسی لیے میں نے یہ درخت لگائے۔

انھوں نے کہا ’میں نے یہ کام ابھی شروع کیا ہے تاہم چار سالوں میں زیتون کے درخت بڑھنا شروع ہو جائیں گے، مجھے معلوم ہے کہ لوگ زیتون کے درختوں سے زیتون کا تیل حاصل کرتے ہیں اور میں بھی یہی کروں گا‘۔

خیال رہے کہ یونان کے مقابلے میں بھارت کی ریاست راجھستان میں زیتون کے درختوں کی تعداد بڑھانے کی دگنی صلاحیت ہے۔

راجھستان میں زیتون کا تیل نکالنے کے لیے اٹلی سے منگوائی جانے والی جدید ترین ریفائنری جلد ہی تیار کر لی جائے گی اور مقامی مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے زیتون کے تیل کی پیداوار کو مذید بڑھایا جائے گا۔