امت شاہ سے ہوئی بات چيت پر مبنی پین ڈرائیو

Image caption عشرت جہاں کو تین دوسرے افراد کے ساتھ مبینہ دہشت گردی کے الزام میں 2004 میں مارا گیا تھا

عشرت جہاں فرضی انکاؤنٹر کیس میں سی بی آئی نے احمد آباد کی عدالت میں چار جولائی کو جو پہلی فرد جرم داخل کی گئی تھی اس کی ایک کاپی بی بی سی کے پاس بھی ہے۔

اس چارج شیٹ میں اس فرضی مقابلے کی تفتیش اور اس میں آنے والی رکاوٹوں سے متلق تفصیلات موجود ہیں۔

چارج شیٹ کے مطابق عشرت جہاں فرضی مقابلے کی جانچ کر رہی مرکزی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کو ایک سینیئر پولیس افسر اور اس کیس کے ملزم جے ایل سنگھل نے دو ’پین ڈرائیو‘ یعنی چھوٹی سی کمپیوٹر ڈرائیو مہیا کی ہیں۔

جے ایل سنگھل نے سی بی آئی کو بتایا ہے کہ ایک پین ڈرائیو میں ان کے اور گجرات کے سابق وزیرِ داخلہ امت شاہ کے درمیان ٹیلی فون پر ہوئی بات چیت کی ریکارڈنگ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریکارڈ کی گئی اس گفتگو میں امت شاہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے پولیس کے غلط استعمال کی باتیں کر رہے ہیں۔

ریاست گجرات کے دارالحکومت احمد آباد میں مقامی صحافی انکر جین کے مطابق دوسری پین ڈرائیو میں گجرات کے سینیئر افسران کی ایک میٹنگ کی خفیہ ریکارڈنگ ہے۔ یہ اجلاس مبینہ طور پر عشرت جہاں فرضی تصادم کی تحقیقات میں رکاوٹ پہنچانے پر بات چیت کے لیے بلایا گیا تھا۔

انکر جین کے مطابق یہ پین ڈرائیوز ریاست کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی اور ان کے دستِ راست سمجھے جانے والے امت شاہ کے لیے آنے والے دنوں میں بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

عشرت جہاں اور ان کے بعض ساتھیوں کو گجرات کی پولیس نے پندرہ جون دو ہزار چار کو ایک فرضی مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا۔ اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی نے کی اور اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ فرضی تصادم تھا۔

فرد جرم کے مطابق آئی پی ایس افسر جے ایل سنگھل نے سی بی آئی سے کہا ہے کہ عشرت جہاں تصادم معاملے کی تحقیقات کو پٹری سے اتارنے کے لیے گجرات کے سینیئر سرکاری حکام کی ایک میٹنگ 21 نومبر، 2011 کو ہوئی تھی۔

سنگھل نے سی بی آئی کو بتایا کہ وہ اس اجلاس میں موجود تھے جو ریاستی اٹارنی جنرل کمل ترویدی کے ذاتی کمرہ میں ہوا۔

ایک دوسرے سینیئر پولیس افسر ترویدی نے سی بی آئی کو ایک اور پین ڈرائیو دی ہے جس میں اس اجلاس کی ایک خفیہ ریکارڈنگ ہے۔ یہی ریکارڈنگ سنگھل کے پاس بھی ہے۔

سنگھل نے سی بی آئی کو جو دوسری پین ڈرائیو دی ہے اس میں ان کی اور اس دور کے ریاستی وزیر داخلہ امت شاہ کی اگست 2009 اور ستمبر 2009 کے درمیان ٹیلی فون پر ہوئی بات چیت کی ریکارڈنگ ہے۔

سی بی آئی کی چارج شیٹ میں دو پولیس افسران کا بیان ہے کہ اس وقت احمد آباد کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر ڈی جی ونجارا نے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور اس وقت کے وزیر داخلہ امت شاہ سے عشرت جہاں اور ان کے دوستوں کو مارنے کی اجازت لے لی تھی۔

ایک دوسرے بیان میں ریٹائرڈ ڈپٹی ایس پی ڈي ایچ گوسوامی نے سی بی آئی کو بتایا کہ تصادم کے بعد درج ہونے والی ایف آئی آر کا مسودہ پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا اور اس پر بحث بھی کی گئی تھی۔

Image caption عشرت جہاں کی ماں اور ان کی بہن انصاف کے لیے مہم چلا رہی ہیں

گوسوامی نے سی بی آئی سے کہا ’ونجارا نے تصادم سے ایک دن پہلے یہ مسودہ سنگھل کو دکھایا جس میں لشکر کے کچھ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کی بات تھی۔ لیکن سنگھل عشرت جہاں کو قتل کرنے اور دہشت گردوں کے گجرات میں آنے کے مقصد کے حوالے سے متفق نہیں تھے۔ ونجارا نے سنگھل سے کہا کی ریاست کے وزیر اعلی اور وزیر داخلہ نے اس کی منظوری دی ہے۔‘

سنہ 2009 میں نائب پولیس انسپکٹر جنرل کے طور پر ریٹائر ہونے والے كے ایم واگھیلا نے سی بی آئی کو بتایا ’چودہ جون، 2004 کو میں نے ونجارا سے بنگلہ نمبر 15 میں ملاقات کی تھی۔ سنگھل اور گوسوامی بھی وہاں موجود تھے۔ سنگھل اور ونجارا کے درمیان اس آپریشن کی خاکے پر اختلافات تھے، لیکن ونجارا نے اسے ان سنا کر دیا۔ سنگھل اس بارے میں کافی پریشان تھے۔‘

وگھیلا نے سی بی آئی کو بتایا ’ونجارا نے کہا ہے کہ ’کالی داڑھی‘ اور ’سفید داڑھی‘ سے تمام مسائل پر ہری جھنڈی مل گئی ہے۔‘

سی بی آئی نے عدالت کو بتایا ہے کہ آئی بی افسر راجندر کمار، پی متل، ایم کے سنہا اور راجیو وانكھڑے کے خلاف تحقیقات کی جائیں گی۔ اس معاملے میں اگلی سماعت 23 جولائی کو ہوگی۔

اسی بارے میں