کشمیر:بم حملے میں قیدی ہلاک، اہلکار زخمی

Image caption کشمیر میں حالیہ دنوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس کی گاڑی پر بم حملے میں ایک قیدی ہلاک اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ عسکریت پسندوں نے قیدی کو چُھڑانے کے لیے یہ حملہ کیا۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی کشمیر کی کئی جیلوں میں قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعات پیش آئے تھے۔

پولیس ترجمان کے مطابق سرینگر میں قائم پولیس کی ٹاسک فورس کے صدر دفتر سے سابق عسکریت پسند شکیل کسانہ کو ایک گاڑی میں سوار کرکے بارہ مولہ کے لیے روانہ کیا گیا۔

ان کی حفاظت کے لیے مسلح پولیس اہلکار بھی گاڑی میں سوار ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق جب یہ گاڑی سرینگر کے بٹہ مالو علاقے سے گزری تو نامعلوم افراد نے اس پر ایک بم پھینکا جو زور دار دھماکہ سے پھٹ گیا۔

بم دھماکہ میں شکیل کسانہ اور چار پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔ انہیں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں شکیل کی موت ہوگئی۔

پولیس کے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ شکیل کو مسلح تشدد کے الزام میں گزشتہ برس گرفتار کیا گیا تھا اور وہ دوسری بار پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہوئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں کئی سال تک گراوٹ ریکارڑ کی گئی لیکن اس سال فروری میں سابق کشمیری عسکریت پسند افضل گورو کو بھارتی جیل میں خفیہ طور پھانسی دینے اور ان کی میّت لوٹانے سے انکار کے بعد کشمیرمیں کشیدگی بڑھ گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ صرف چھ ماہ کے دوران تشدد کے پچاس سے زائد واقعات رونما ہوئے جس میں بھارتی فورسز کے پینتس اہلکار اور چوبیس عسکریت ہلاک ہوگئے۔

دریں اثنا بھارتی ریاستوں مہاراشٹر اور راجھستان میں دو کشمیریوں کی پراسرار موت کے بعد سرینگر کے بعض علاقوں میں مسلسل کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اس سلسلے میں علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے جمعہ کے روز نماز کے بعد مظاہروں کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم لاکھوں یاتریوں کی میزبانی کرتے ہیں لیکن بھارت میں کشمیریوں کو قتل کیا جاتا ہے۔‘

اسی بارے میں