کشمیر: فوج کی فائرنگ سے چھ عام شہری ہلاک

Image caption بھارت کے زير انتظام کشمیر میں تقریباً سارے علاقے میں فوج کا پہرہ رہتا ہے

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع رام بن کے علاقے گُول میں مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بدھ کی رات نمازِ تراویح کے دوران بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورسز یا بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ایک مسجد کے امام کا زدوکوب کیا اور بعد میں اسے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امام کی ہلاکت کے خلاف جمعرات کی صبح جب عوامی ردعمل سامنے آیا تو فورسز اہلکاروں نے جلوس پر فائرنگ کی جس میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور بیس کے قریب زخمی ہوگئے۔

اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ تاہم مقامی لوگوں نے بتایا کہ مقامی امام نے جب بی ایس ایف اہلکاروں کو مسجد میں داخل ہونے سے منع کیا تو اس کا زدوکوب کیا گیا اور بعد میں اس سے گولی مار دی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق جمعرات کی صبح امام اور مسجد کی بے حرمتی کے خلاف مقامی لوگوں نے جلوس نکالا اور مظاہرے کیے۔

ہلاکتوں کی وجہ سے جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں بانی ہال، بادر واہ، کاشت واڑ، ڈوڈا اور قاضی گُنڈ میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔

دریں اثنا حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ نے جمعہ کے روز کشمیر میں مکمل ہڑتال اور مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

گذشتہ ہفتے بارہمولہ میں بھی میں رات کے دوران فوج کی فائرنگ سے دو نوجوان مارے گئے تھے۔

واضح رہے کہ کشمیر کے اکثر علاقوں میں فوج تعینات ہے۔ شہروں اور بعض قصبوں میں نیم فوجی فورسز بی ایس ایف یا سی آر پی ایف تعینات ہے۔

مہاراشٹرا اور راجھستان میں دو کشمیریوں کی پراسرار موت کو لے کر پہلے ہی کشمیر میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

اسی بارے میں