بھارت میں سوشل میڈیا پر پولیس کی نظر

Image caption بھارت میں حکومتی ادارے سوشل میڈیا پر کسی بھی طرح کی بحث یا کسی موضوع پر جاری بات چيت کی سخت نگرانی کرتے ہیں

بھارت میں گینگ ریپ، خواتین کے خلاف تشدد اور بد عنوانی کے خلاف بڑے بڑے مظاہروں سےگھبرا کر سرکاری ایجنسیاں اب سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کی کڑی نگرانی کرتی ہیں۔

نگرانی کی شروعات ممبئی سے ہوئی جہاں پولیس نے فیس بک، ٹوئٹر اور دوسرے سوشل میڈیا پر عام لوگوں کی رائے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

انٹر نیٹ پر مجرمانہ کارروائیوں کے علاوہ اب پولیس کی نظر ان لوگوں پر بھی رہے گی جو سیاسی اور سماجی مسائل پر سوشل میڈیا میں خوب بولتے ہیں۔

پولیس جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ عوام کن موضوعات میں دلچسپی لے رہی ہے اور احتجاجی مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر لوگوں کا رجحان کس طرف ہے۔

سوشل میڈیا کی نگرانی کا یہ کام مارچ 2013 میں شروع کیا گيا تھا۔ اس بارے میں ممبئی پولیس کے ایک سینئر افسر نے بی بی سی سے بات چیت میں نگرانی کے عمل کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا ’نوجوان آج کل فیس بک پر کافی فعال ہیں۔ یہ لوگ نا سمجھ ہیں اور بات بات پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا لیب کے ذریعہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کون کس معاملے پر زیادہ سے زیادہ لکھ رہا ہے اور کس طرح کا رد عمل دے رہا ہے۔‘

اس کام میں پولیس کو انٹرنیٹ کی بڑی نجی کمپنیوں سے تکنیکی مدد مل رہی ہے۔

ایسی ہی ایک نجی کمپنی کے سی ای او رجت گرگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دِلّی ریپ کیس ہو یا اس طرح کی دوسری عوامی تحریک، گزشتہ دنوں ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جب پولیس یہ نہیں جان پائی کہ لوگ کیا سوچ رہے ہیں اور کتنی بڑی تعداد میں مظاہرے میں شریک ہوں گے۔ ہمارا کام ہے سوشل میڈیا پر نظر رکھتے ہوئے پولیس کو یہ بتانا کہ لوگ کن چیزوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں کس طرح کے مسئلے زور پکڑ رہے ہیں۔‘

گرگ کے مطابق انٹرنیٹ سے معلومات جمع کرنے کا کام بعض سافٹ ویئر کرتے ہیں اور معلومات کو سمجھنے اور ان پر نگرانی کا کام تکنیکی ماہرین کی ٹیم کرتی ہے۔

حکومت کی دلیل ہے کہ جو معلومات سوشل میڈیا پر عام طور سے موجود ہیں صرف انہیں کی نگرانی کی جاتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت میں پرائیویسی سے متعلق قانون انتہائی غیر واضح ہیں اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے زیادہ تر لوگ اپنی ذاتی معلومات چھپانے جیسی تراکیب سے لاعلم ہیں۔

ماضی میں ایک کارٹونسٹ اسیم ترویدی کو بھی اپنی ویب سائیٹ پر ’ناپسندیدہ‘ کارٹون بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن میڈیا پر شدید تنقید کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔

انٹرنیٹ کے مسائل پر کام کرنے والی تنظیمیں مانتی ہیں کہ بھارت میں انٹرنیٹ اور عام لوگوں کی نگرانی کے معاملے میں حکومت کی جانب سے شفافیت کی بے حد کمی ہے۔

دی سینٹر فار انٹرنیٹ اینڈ سوسائٹي سے منسلک پرنیش روشنی کہتے ہیں ’بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ سے متعلق قوانین کو اگر پڑھیں تو سمجھ آتا ہے کہ وہ کتنے خراب طریقے سے لکھے گئے ہیں۔ ان قوانین میں وضاحت اور احتساب کی گنجائش نہ ہونے کے سبب ان کا استعمال توڑ مروڑ کر کیا جاتا ہے۔‘

پرنیش کہتے ہیں کہ ’2011 میں حکومت نے مرکزی وزارتوں اور محکموں کے لئے سوشل میڈیا سے وابستہ ہدایات جاری کیں۔ اس کا مقصد سرکاری محکموں کو یہ بتانا تھا کہ سوشل میڈیا پر عام لوگوں سے کیا رویہ اپنائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب حکومت اور پولیس سے منسلک محکموں نے سوشل میڈیا لیب بنائے تو زیادہ تر لوگوں نے سمجھا کہ ان کا مقصد عوام کی نگرانی نہیں بلکہ عام لوگوں سے رابطہ قائم کرنا ہے۔‘

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ممبئی پولیس کی جانب سے سوشل میڈيا کی نگرانی کا یہ عمل عام لوگوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

اسی بارے میں