کشمیر: ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال، کرفیو نافذ

Image caption جعمہ کے پیش نظر پورے کشمیر میں کرفیو نافذ کر دیا گيا ہے

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ہندو اکثریتی جنوبی خطے جموں میں جمعرات کو بھارت کی سرحدی فوج کی فائرنگ سے کم از کم چار افراد کی ہلاکت کے خلاف جمعہ کو وادی میں ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ حکومت نے اس موقع پر مظاہروں کو ناکام بنانے کے لیے پوری وادی میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

ہلاکتوں کا واقعہ جموں کے رام بن ضلع میں گول علاقہ کے قریب پیش آیا تھا اور اس کے بعد جموں کے ساتھ ساتھ پوری وادی کشمیر میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔

اس واقعہ میں کُل پینتالیس افراد زخمی ہوئے تھے جن میں کچھ کی حالات تشویشناک ہے۔

بی ایس ایف کے انسپکٹر جنرل راجیو کرشنا نے جموں میں نامہ نگاروں کو فائرنگ کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین نے بی ایس ایف کے اُسی کیمپ پر دھاوا بولنا چاہا تھا جس میں ہتھیار اور گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’ہجوم نے کیمپ کو دو مرتبہ گھیرنے کی کوشش کی۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ لوگ تشدد پر آمادہ تھے۔‘

تاہم گول کے مقامی باشندہ غلام محی الدین کا کہنا تھا کہ بدھ کی رات کو مسجد اور اس سے ملحق درسگاہ میں بی ایس ایف اہلکاروں نے ایک معلم اور بعض طلبا کو زدوکوب اور درسگاہ کی بے حرمتی کی تھی اور اس پر جمعرات کی صبح لوگ جلوس کی صورت میں بی ایس ایف کیمپ کی طرف شکایت لے کر گئے تھے۔

غلام محی الدین نے بتایا ’جونہی ہم لوگ کیمپ کے صدردروازے پر پہنچے تو بی ایس ایف اہلکاروں نے بندوقیں تان لیں۔ ہم لوگ نعرے بلند کررہے تھے، کسی نے کوئی پتھر تک نہیں مارا۔ اتنے میں گولیوں کی بوچھاڑ ہوگئی۔‘

اس واقعے میں ابتدائی طور پر چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات آئی تھیں تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جمعہ کو ایسے چار افراد کی تدفین ہی کی گئی ہے جو اس فائرنگ سے مارے گئے تھے۔

جمعہ کو کرفیو کی وجہ سے جموں اور سرینگر کے درمیان واحد شاہراہ پر آمدورفت میں خلل پڑا ہے۔ تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں اور کشمیر یونیورسٹی نے امتحانات کو ملتوی کردیا ہے۔ کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری ہندو عقیدت مندوں کی امرناتھ گھپا کی یاترا بھی متاثر ہوگئی ہے۔

Image caption کشمیر میں افسپا کے ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے

کرفیو لگانے کے ساتھ ساتھ حکومت نے علیحدگی پسندوں کی سرگرمیوں کو بھی محدود کیا ہے۔ سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور شبیر شاہ کو گھروں میں نظربند کر دیا گیا ہے جبکہ یاسین ملک کو گرفتار کرکے تھانے میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

دریں اثنا وزیراعلی عمر عبداللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس قسم کی ہلاکتیں ناقابل قبول ہیں۔‘

حکومت نے اس واقعہ کی مجسٹریٹ سطح پر تحقیقات کا حکم دیا ہے اور رام بن ضلع کے ڈپٹی کمشنر کو تبدیل کیا گیا ہے۔ گول علاقہ میں قائم پولیس کی چوکی میں تعینات پولیس افسر کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

حکومت نے عینی شاہدین کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ رام بن کے ڈپٹی کمشنر شام ونود نے فائرنگ کے احکامات دیے تھے اور پولیس افسر نے ہی پہلی گولی چلائی تھی۔

اُدھر بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے بھی اس واقعہ کی تفتیش کا حکم دے کر کہا ہے کہ کسی کو قصوروار پایا گیا تو اسے بخشا نہیں جائے گا۔

تاہم گُول میں واقع بی ایس ایف کیمپ کے کسی بھی اہلکار کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔

دراصل کشمیر میں گزشتہ 24 سال سے بھارت کا ایک فوجی قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ یا ’افسپا‘ نافذ ہے۔ اس کی رُو سے یہاں کی حکومت کسی بھی فوجی اہلکار یا نیم فوجی ادارے کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرسکتی۔

یہی وجہ ہے کہ افسپا کو ہٹانے کا مطالبہ یہاں کے ہندنواز گروپوں کا بنیادی سیاسی نظریہ بن گیا ہے۔ حکومت ہند کی وزارت دفاع اور بھارتی فوجی قیادت اس قانون کو ہٹانے کے تمام مطالبات مسترد کرچکے ہیں۔ ایک فوجی جنرل نے تو اس قانون کو بھارتی فوج کی ’مقدس کتاب‘ سے بھی تعبیر کیا تھا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی گروپوں کے اتحاد کولیشن آف سول سوسائٹیز یا سی سی ایس نے کہا ہے کہ : ’کشمیر میں یہ سب تب تک ہوگا جب تک یہاں افسپا نافذ ہے۔ فوج اور نیم فوجی اہلکار دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے قتل کیے اور دوسرے جرائم کئے جب ان کا کچھ نہیں بگڑا تو ہم بھی قانون سے کھلواڑ کریں گے۔حکومت ہند نے کشمیر میں تعینات اپنی فورسز کو جرائم کی کُھلی چھوٹ دے رکھی ہے، بلکہ جرائم میں ملوث پولیس اور اہلکاروں کو اعزازات دیے جاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں