کشمیر میں ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے جاری

Image caption مبصرین کے مطابق کشمیر میں حالیہ دنوں میں تشدد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چار مظاہرین کی ہلاکت کے بعد حالات مسلسل کشیدہ ہیں اور مختلف مقامات پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔

تین روز تک مظاہروں، ہڑتال اور کرفیو کے بعد اتوار کو جب حکام نے سرینگر اور بعض دوسرے قصبوں سے کرفیو ہٹایا تو مظاہروں کی لہر دوسری علاقوں میں پھیل گئی۔

کئی مقامات پر خواتین نے بھی مظاہرے کیے جس کے بعد بعض حساس علاقوں میں دوبارہ کرفیو نافذ کیا گیا۔

اس دوران بھارتی پنجاب کے سکھ رہنماؤں اور پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے سیاسی حلقوں نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران پتھراؤ کے الزام میں درجنوں کمسن لڑکوں کو رات کے دوران گھروں سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اٹھارہ جولائی کی صبح اُس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب سری نگر سے جنوب کی جانب 250 سو کلومیٹر دور رام بن ضلع کے گول گاؤں میں مقامی لوگوں نے مسجد اور درسگاہ میں بھارتی بارڈر سکیورٹی فور‎سز کے اہلکاروں کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف گول میں ہی جلوس نکالا۔

وہاں موجود بی ایس ایف اہلکاروں نے جلوس پر فائرنگ کی جس میں چار افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوگئے۔

گزشتہ تین روز سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

اتوار کو بھی مختلف مقامات پر پولیس نے کالی مرچ کی گیس اور ربر کی گولیوں کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی کمسن لڑکے زخمی ہوگئے۔

Image caption کشمیر میں جگہ جگہ مظاہرے جاری ہیں

گزشتہ کئی برسوں میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ جموں میں ہلاکتوں کی وجہ سے پورا کشمیر متاثر ہوا اور ہندؤں کی سالانہ امرناتھ یاترا بھی متاثر ہوئی۔

علیحدگی پسند گروپوں نے جمعہ، سنیچر اور اتوار کو اجتماعی مظاہروں کی کال دی تھی، لیکن حکام نے حساس آبادیوں کی سخت ناکہ بندی کی اور پوری وادی میں کرفیو نافذ کردیا۔ علیحدگی پسند رہنماوں کو اپنے ہی گھروں یا تھانوں میں نظربند کیا گیا۔

دریں اثناء پنجاب کے معروف سکھ رہنما سمرن جیت سنگھ مان نے اتوار کو وادی کا ہنگامی دورہ کیا۔

انہوں نے کئی علیحدگی پسند رہنماوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کشمیر کو متنازع خطہ قرار دیا اور کہا کہ رائے شماری کے انعقاد تک امن کا قیام ناممکن ہے۔

سمرنجیت سنگھ مان پنجاب کے سابق پولیس افسر ہیں۔ انہوں نے 1984 میں امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر فوجی یلغار کے خلاف سرکاری نوکری سے استعفی دے دیا تھا۔ 68 سالہ سمرنجیت سنگھ مان پر سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کی سازش کا الزام ہے اور وہ کئی بار جیل جاچکے ہیں۔

سمرنجیت سنگھ مان کا کہنا تھا: ’پنجاب اور کشمیر دو صوبے ہِِیں جن پرحکومت ہند نے قبضہ کیا ہے۔ کشمیریوں اور سکھوں کو کبھی انصاف نہیں ملا۔ سنہ دو ہزار میں بھی چالیس سے زائد سکھ باشندوں کو بھارتی فوج نے ہلاک کیا، لیکن ابھی اس کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔‘

انہوں نے پنجاب اور کشمیر دونوں خطوں کے لیے رائے شماری کا مطالبہ کیا۔

Image caption علیحدگی پسند رہنماؤں نے کشمیر اور پنجاب کے لیے حق خود ارادیت کی بات کی ہے

علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ نے سمرنجیت سنگھ مان کے دورے کا خیر مقدم کیا اور پنجاب کے لیے بھی رائے شماری کی حمایت کی۔سید علی گیلانی نے پیر کے روز ’یوم تقدس قران‘ منانے کی اپیل کی ہے۔

ادھر حکام نے دو روز تک معطل امرناتھ یاترا کو بحال کر دیا ہے اور جموں میں سینکڑوں یاتریوں کو کشمیر کی طرف پیش قدمی کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم تعلیمی اور کاروباری نظام ٹھپ ہے۔

قابل ذکر ہے کشمیر میں سنہ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار دس تک بڑے پیمانے پر ہند مخالف عوامی تحریک چلی تھی۔ دو سال تک حالات بظاہر پرسکون رہے، لیکن اس سال فروری میں سابق عسکریت پسند افضل گورو کو دہلی کی تہاڑ جیل میں خفیہ پھانسی دی گئی اور وہیں دفن کیا گیا۔

اس کے بعد کشمیر میں مسلح حملوں اور غیرمسلح احتجاج کی لہر تیز ہوگئی۔

اسی بارے میں