جو بائیڈن کی من موہن سنگھ سے ملاقات

Image caption امریکہ اور بھارت کے درمیان فی الحال سو ارب ڈالر کی تجارت ہے

امریکی نائب صدر جو بائیڈن بھارت کے وزیرِاعظم من موہن سنگھ سے بات چیت کرنے والے ہیں۔

امریکی نائب صدر بھارت کے ساتھ سفارتی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ اور تقویت دینے کے لیے ان دنوں بھارت کے چار روزہ دورے پر ہیں۔

اس کے علاوہ جو بائیڈن بھارت کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی بھی جائيں گے جہاں وہ تاجر رہنماوں سے ملاقات کریں گے اور معیشت پر تقریر کریں گے۔

دونوں ممالک کے درمیان 1995 میں تجارت نو ارب ڈالر تھی جو بڑھ کر آج سنہ 2013 میں 100 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔

امریکی نائب صدر اپنی اہلیہ جل کے ساتھ پیر کی شام نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترے جہاں سے وہ فوری طور پر بھارت کے بابائے قوم کہلانے والے مہاتما گاندھی سے منسوب میوزم گئے۔

میوزم میں انھون نے سیاحوں کے کتاب میں لکھا کہ یہ ان کے لیے ’عزت و افتخار کی بات ہے‘ کہ انھوں ’ایسے شخص کی یادگار کا دورہ کیا جس نے دنیا کو بدل ڈالا‘۔

اپنے دورے سے قبل جو بائیڈن نے ایک بھارتی اخبار دا ٹائمز آف انڈیا کو دیے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’دنیا کی دو بڑی جمہوریتوں میں ساتھ مل کر کام کرنے کی زبردست صلاحیت ہے‘ لیکن اس ضمن میں مزید کام کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے بعض شعبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت امریکی کمپنیوں کو زیادہ رسائی دے اور یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان جو تاریخی جوہری سمجھوتہ ہوا ہے اس سے جو فوائد حاصل ہونے چاہیے تھے وہ نہیں ہوئے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کو افغانستان سے 2014 میں امریکی فوج کے انخلاء کے بارے میں خدشات ہیں۔

بھارت نے افغانستان میں دو ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور اسے یہ خدشہ ہے کہ امریکہ کے جانے کے بعد وہاں طالبان آ جائیں گے۔

بائیڈن نے اخبار سے کہا: ’ہم افغانستان میں بھارت کے کردار کی پرزور حمایت کرتے ہیں کہ اس نے افغانستان کی معیشت کو بڑھانے میں اپنی معاشی قوت کا اظہار کیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’بھارت کی امداد افغانستان کے روشن مستقبل اور مستحکم افغانستان کے ہمارے مشترکہ ہدف کے حصول میں ممدومعاون ثابت ہوگی۔‘

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے نومبر 2010 کے اپنے دورے میں کہا تھا کہ واشنگٹن اور دہلی کے رشتے دونوں ممالک کی شراکت داری کی مثال ہو گی۔

اسی بارے میں