بھارت میں اب غریبوں کی تعداد ستائیس کروڑ

Image caption غریبوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے: حزب اختلاف

بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق ملک میں اب تقریباً بائیس فیصد لوگ انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔

کمیشن کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب غریبوں کی تعداد ستائیس کروڑ ہے، یعنی ہر پانچ میں سے ایک شہری غریبی کی لائن سے نیچے زندگی گزارتا ہے۔

لیکن بھارت میں غریبی کی لائن کا تعین تنازعے کا شکار رہا ہے اور اب اس پر حکومت کی قائم کردہ ایک کمیٹی نظر ثانی کر رہی ہے۔

موجودہ پیمانے کے تحت بنیادی ضروریات پر دیہی علاقوں میں ستائیس اور شہری علاقوں میں تینتیس روپے سے زیادہ خرچ کرنے والے افراد کو انتہائی غریب کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاتا۔

ماہرین اور حزب اختلاف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ غریبوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ تینتیس روپے میں گزارا ناممکن ہے اور حکومت نے اقتصادی ترقی کی بہتر تصویر پیش کرنے کے لیے یہ پیمانہ اختیار کیا ہے۔

بہرحال اس حد پر اب حکومت کی قائم کردہ کمیٹی نظر ثانی کر رہی ہے لیکن منصوبہ بندی کمیشن کے مطابق اس کمیٹی کی سفارشات دو ہزار چودہ کے نصف تک ہی حاصل ہوں گی۔

دہلی سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کمیشن کا دعویٰ ہے کہ حد بڑھائے جانے کی صورت میں بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ غریبوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق غریبوں کی تعداد میں سب سے زیادہ کمی ریاست بہار اور اڑیسہ میں آئی ہے۔

دو ہزار چار میں بہار کی چون فیصد آبادی غریبی کی لائن کے نیچے تھی جبکہ اب یہ تقریباً چونتیس فیصد ہے۔

غربت کے لحاظ سے سب سے زیادہ خراب حالات چھتیس گڑھ، جھاڑکھنڈ، منی پور، اروناچل پردیش اور بہار میں ہے جبکہ گؤا میں صرف پانچ فیصد لوگ غریبی کی لائن کے نیچے رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ کیرالہ، ہماچل پردیش، پنجاب اور پوڈو چیری میں بھی غریبوں کی تعداد دس فیصد سے کم ہے۔

اسی بارے میں