دہلی گينگ ریپ کیس پر فیصلہ موخر

Image caption جمعرات کو عدالت میں نابالغ ملزم کو پیش کیا گيا، ریپ کے اس واقعے کے مقدمے کا یہ پہلا فیصلہ ہوگا

بھارت کی ایک عدالت نے گزشتہ سال دسمبر میں دہلی میں ہونے والے گینگ ریپ کے واقعے میں ملوث ایک نابالغ ملزم کے بارے میں فیصلہ آئندہ پانچ اگست تک کے لیے موخر کر دیا ہے۔

جووینائل جسٹس بورڈ یعنی بچوں کے انصاف کی عدالت نے سپریم کورٹ میں سبرامنیم سوامی کی داخل کردہ درخواست کے پیش نظر اپنا فیصلہ موخر کیا ہے۔

اس سے پہلے عدالت نے یہ فیصلہ پچیس جولائی تک کے لیے محفوظ کر لیا تھا۔ لیکن چونکہ جنتا پارٹی کے صدر سبرامنیم سوامی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا تھا کہ نابالغوں سے متعلق قوانین اور حدود پر ازسرنو غور کیا جائے۔

سبرامنیم سوامی کی اس درخواست پر سپریم کورٹ میں 31 جولائی کو سماعت ہوگي اور اس کے بعد ہی متعلقہ عدالت اپنا فیصلہ سنائے گي۔

سبرامنیم سوامی نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے ملزمان کی ذہنی اور دانشورانہ عمر کو ذہن میں رکھا جانا چاہیے نہ کہ 18 سال کی عمر کو۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر جووینائل جسٹس بورڈ اس مقدمہ کا فیصلہ سنا دیتا ہے تو پھر سپریم کورٹ میں ان کی درخواست کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔

ریپ کے اس واقعے کے مقدمے کا یہ پہلا فیصلہ ہوگا۔ قانون کے تحت کسی نابالغ کو جیل میں بند نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ریپ اور قتل کے مقدمے میں ملوث نابالغ ملزم کو زیادہ سے زیادہ تین برس کے لیے اصلاحی مرکز میں رکھنے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

نابالغ بچوں کے معاملات کی عدالت کے جج نے لوٹ مار کے ایک معاملے میں جمعرات کو اپنا فیصلہ سنا دیا ہے لیکن ملزم کے نابالغ ہونے کے سبب اس فیصلے کو ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

Image caption گینگ ریپ کے اس واقعے کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے تھے

قانون کے مطابق اٹھارہ برس سے کم عمر کے بچے نابالغ ہیں۔

دہلی میں ایک طالبہ پر بس میں شدید تشدد کیا گیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے میں تشدد کا شکار ہونے والی طالبہ کچھ روز بعد ہلاک ہو گئی تھی۔

دہلی گینگ ریپ کے اس مقدمے کے پانچ اور ملزمان بھی ہیں۔ جن میں سے ایک ملزم جیل میں پر اسرار طور پر ہلاک ہو گیا جبکہ چار کا فیصلہ اس مہینے کے آخر میں متوقع ہے۔

ریپ کا یہ واقعہ 16 دسمبر کو جنوبی دہلی میں پیش آیا تھا۔ پولیس کی تفتیش کے مطابق ملزموں نے بس میں ایک 23 سالہ طالبہ کا اجتماعی ریپ کیا اورانہیں انتہائی بے دردی کے ساتھ زدوکوب کیا تھا۔ جس کے بعد سنگاپور کے ایک ہسپتال میں اس لڑکی کی موت ہو گئی تھی۔

اس واقعے کے بعد ریپ اور خواتین پر تشدد کے واقعات کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے ہوئے تھے۔

بھارت میں کئی حلقوں نے خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے مرتکب افراد کو موت کی سزا دینے کا مطالبہ کیا اور نابالغوں کے لیے قوانین میں ترامیم کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

اسی بارے میں