کشمیر:پانچ روز میں 200 نوجوان گرفتار

Image caption علیحدگی پسند رہنماوں کو گھروں میں ہی نظربند کیا گیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں حالیہ ہلاکتوں کے خلاف مظاہروں کی لہر کو روکنے کے لیے مقامی پولیس نے گرفتاری کی مہم شروع کی ہے جس پر عوامی حلقوں کا سخت ردِعمل سامنا آیا ہے۔

کشمیر میں ان دنوں اکثر علاقوں کی مساجد میں رات کو لاوڈ سپیکر کے ذریعے احتجاج کیا جاتا ہے۔ پولیس اہلکار جب کسی کمسن لڑکے کو گھر سے گرفتار کر کے لے جاتی ہے تو مقامی لوگ مسجدوں میں لاوڈ سپیکر کے ذریعے صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق پانچ روز میں کشمیر کے تمام اضلاع سے دو سو سے زائد نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔

دراصل جموں صوبے میں مسجد کی بے حرمتی کے خلاف گذشتہ ہفتے مظاہرے ہوئے تو بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے چار مظاہرین کو ہلاک اور چالیس دیگر کو زخمی کر دیا۔

اس واقعے پر پوری وادی میں چار روز تک کرفیو، ہڑتال اور کشیدگی کا ماحول رہا۔

حالات اب بظاہر پرسکون ہیں لیکن اکثر علاقوں میں مرد، خواتین اور بچے گرفتاریوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔

دراصل چند سال کی خاموشی کے بعد احتجاجی تحریک دوبارہ شروع ہونے پر مظاہروں کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔

ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا:’ہم ٹھوس شواہد کی بنیاد پر ہی نوجوانوں کو گرفتار کرتے ہیں‘۔

لیکن انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں پتھراؤ یا احتجاج میں شرکت کرنے والوں کو چن چن کر گرفتار کیا جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک نوجوان وقار احمد کو بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔ان کے والد کو بھی کئی روز تک قید کیا گیا۔ اب وہ روپوش ہے تاہم ان کے دوستوں کا کہنا ہے کہ انہیں پولیس جاسوسی کرنے کے لیے مجبور کر رہی ہے۔

کولیشن آف سول سوسائٹیز کے ترجمان خرم پرویز کہتے ہیں: ’حکومت ان لڑکوں کو غیرقانونی طور پر قید کرتی ہے۔ چْن چْن کر ایسے لڑکوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو کئی سال پہلے مظاہروں میں دیکھے گئے‘۔

ان کا مزید کہنا ہے: ’حالات کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ آج کل جو مظاہرے ہو رہے ہیں وہ دراصل گرفتاریوں کے ردِعمل میں ہو رہے ہیں لیکن حکومت اسے بھی امن و قانون کا لبادہ پہنا کر مزید ظلم کی راہ ہموار کر رہی ہے۔‘

علیحدگی پسند رہنماوں کو گھروں میں ہی نظربند کیا گیا ہے۔

ہند نواز اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ’فورسز کے جن اہلکاروں نے گولی چلائی اور چار لوگوں کو قتل کر کے پورے کشمیر میں آگ لگا دی، ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن جو ان ہلاکتوں کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہیں ان کے خلاف پوری انتظامیہ اور پولیس فورسز ہاتھ دھوکر پیچھے پڑی ہے۔‘

محبوبہ مفتی نے الزام لگایا ہے کہ ’موجودہ حکومت نے پولیس کو چھوٹ دے رکھی ہے جس کی وجہ سے لڑکوں کی رہائی کے عوض والدین سے تاوان لیا جاتا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے: ’ایک پوری نسل کو پولیس تھانوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ان لڑکوں کو نہ کالج میں داخلہ ملتا ہے اور نہ ہی کا پاسپورٹ ہے، ظاہر ہے کہ یہ لوگ بندوق اُٹھائیں گے۔ اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت تشدد کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔‘

قابل ذکر ہے کہ اس سال فروری میں افضل گورو کو پھانسی دیے جانے اور جیل میں دفن کرنے کے واقعہ نے کشمیر میں بے چینی پھیلا دی ہے۔

افضل گورو کو بھارتی سپریم کورٹ نے بارہ سال قبل بھارتی پارلیمان پر کیے گئے مسلح حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا۔ کئی سال تک کشمیر میں حالات پرسکون رہے لیکن افضل گورو کی پھانسی کے بعد مسلح حملوں میں بھی شدت آئی اور احتجاجی مظاہرے بھی ہونے لگے۔

اسی بارے میں