بھارت: تلنگانہ ریاست کے قیام کی منظوری

Image caption حکمراں اتحاد کے اعلان کے بعد نئی ریاست کے قیام کی قراردار کی اسمبلی سے منظوری لازمی ہے

بھارت میں حکام کے مطابق کانگریس کی سربراہی میں قائم حکمراں اتحاد نے ریاست آندھراپردیش میں نئی ریاست تلنگانہ کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔

تلنگانہ ریاست کی آبادی چار کروڑ ہو گی اور اس میں آندھراپردیش کے شمالی حصے میں دس اضلاع بشمول بھارت کا چھٹا بڑا شہر حیدرآباد بھی شامل ہو گا۔

تلنگانہ ہے کیا؟

تلنگانہ ریاست کے قیام کا مطالبہ 1956 میں اس وقت سے کیا جارہا ہے جبکہ تلگو بولنے والے مختلف علاقوں کو ملا کر آندھراپردیش کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔

تلنگانہ ریاست کے قیام کے حوالے سے حالیہ سالوں میں احتجاجی مظاہروں میں شدت آئی تھی اور ریاست کے قیام کے حامیوں کا کہنا تھا کہ حکومت نے کبھی اس علاقے میں ترقی پر توجہ نہیں دی ہے۔ نئی ریاست کے قیام کے مطالبے میں زیادہ شدت اس وقت آئی جب گزشتہ گیارہ روز سے مقامی رہنما چندر شیکھر راؤ ریاست کے قیام کے لیے بھوک ہڑتال پر تھے۔

کانگریس کے سینیئر رہنما دگوجئے سنگھ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ’یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن اب ہر ایک کو سنا گیا ہے اور فیصلہ کر دیا گیا ہے۔‘

Image caption تلنگانہ ریاست کے قیام کے مطالبے پر کئی بار پرتشدد مظاہرے ہو چکے ہیں

ریاست کے قیام کے مخالفین اس اقدام سے خوش نہیں ہیں کیونکہ تلنگانہ ریاست کا دارالحکومت حیدرآباد ہو گا جو بھارت میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کا ایک بڑا مرکز ہے۔

کانگریس کے ترجمان اجے ماکن نے دہلی میں ایک اخباری کانفرس میں بتایا کہ ’حیدرآباد آئندہ دس سال تک اس وقت تک دونوں ریاستوں کا دارالحکومت رہے گا جب تک آندھراپردیش اپنا علیحدہ دارالحکومت نہیں بنا لیتا‘۔

حمتی منظوری پارلیمان سے ملے گی جہاں بھارت کی انتیسویں ریاست کے قیام کی قرارداد کی اسمبلی سے منظوری لازمی ہے۔

نئی ریاست کے قیام کے بعد آندھراپردیش میں نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں اہلکاروں کو تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ فیصلے کے خلاف کسی بھی ممکنہ پرتشدد مظاہرے کو روکا جا سکے۔

آندھراپردیش میں کانگریس کے چیف وئپ ردراراجو بدما راجو کے مطابق’ ہم اپنی جماعت کے لیے زہر نگل رہے ہیں، فیصلہ بہت بدقسمت ہے لیکن ہمارے رہنماؤں کا فیصلہ ہے جس کا ہم نے احترام کرنا ہے۔ ہمیں آنے والے نتائج اور مسائل کا اندازہ ہے‘۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حمکراں اتحاد نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب ملک میں آئندہ سال عام انتخابات منعقد ہونے ہیں اور حالیہ جائزوں کے مطابق کانگریس کی آندھراپردیش ریاست میں پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔

سال دو ہزار نو میں حکمراں اتحاد نے نئی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا تھا تاہم بعد میں کہا تھا کہ اس ضمن میں مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

بھارت میں آخری بار سال دو ہزار میں تین نئی ریاستوں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ ان میں مدھیا پردیش کے مشرقی علاقوں پر مشتمل چھتیس گڑھ کے نام سے نئی ریاست بنائی گئی۔ اتر پردیش کے پہاڑی علاقوں پر مشتمل اتراکھنڈ ریاست اور ریاست بہار کے جنوبی علاقوں پر مشتمل جھار کھنڈ ریاست کا قیام عمل میں آیا تھا۔

تلنگانہ تاریخی اعتبار سے

Image caption تلگودیشم سے عیلحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی

تاریخی اعتبار سے تلنگانہ کا علاقہ نظام حیدرآباد کی آصف جاہی سلطنت کا حصہ تھا۔ 1948 ء میں ہندوستان میں حیدرآباد کے انضمام کے بعد تلنگانہ کو کچھ برسوں تک ایک الگ ریاست کی حیثیت حاصل رہی۔

جب لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تشکیل جدید کے لیے فضل علی کمیشن قائم کیا گیا تب بھی علاقہ کے عوام نے اپنے لیے ایک علیحدہ ریاست کے موقف کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا اور اس علاقہ کو ساحلی آندھرا کے ساتھ ملا کر آندھراپردیش کا نام دیا گیا-

ریاست اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے کے دوران ساحلی آندھرا کے زیادہ خوشحال اور با اثر طبقات کے کنٹرول میں رہی اور یہ شکایت عام رہی کہ انہوں نے غریب اور پسماندہ تلنگانہ کے ساتھ معاشی سماجی اور دوسرے شعبوں میں انصاف نہیں کیا-

چنانچہ وقفے وقفے سے تلنگانہ کو علیحدہ ریاست بنانے کا مطالبہ سر اٹھاتا رہا- 70-1969 میں اس مسئلہ پر پرتشدد احتجاج شروع ہوا جس میں 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے۔

اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں تلنگانہ کے عوام نے احتجاج کی قیادت کرنے والی تلنگانہ پرجا سمیتی کو بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب کیا۔ لیکن انتخابات کے بعد اسی پارٹی نے قلا بازی کھائی اور خود کو کانگریس میں ضم کر لیا۔ اس دھوکہ دہی سے تلنگانہ کے عوام اتنے بدظن ہوئے کہ اگلے دو تین دہائیوں تک کسی نے بھی تلنگانہ ریاست کا نام نہیں لیا۔

2001 ء میں یہ مسئلہ اس وقت پھر شدت کے ساتھ اٹھا جبکہ تلگودیشم سے عیلحدگی اختیار کرنے والے چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ راشٹرسمیتی کے نام سے اپنی الگ پارٹی بنائی اور تلنگانہ کے لیے اپنی مہم کا آغاز کیا۔

رفتہ رفتہ یہ جماعت اتنی طاقتور ہوگئی کہ 2004ء کے انتخابات کے لیے کانگریس پارٹی کو اس علاقائی جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا۔

اسی بارے میں