سپاٹ فکسنگ کے تار اور پاکستان کو بجلی

Image caption انڈین پریمیئر لیگ کے سپاٹ فکسنگ کیس میں داؤد کو ہی اصل ملزم قرار دیا گیا ہے

اگر آپ کو وہ زمانہ یاد ہے جب شارجہ میں انڈیا اور پاکستان کے میچ ہوا کرتے تھے تو آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ان میچوں میں اکثر داؤد ابراہیم بھی نظر آتے تھے۔ آنکھوں پر کالا بڑا سا چشمہ، کان سے ٹیلی فون لگا ہوا اور ارد گرد گھومتے کچھ حسین چہرے۔

پھر 1993 میں ممبئی کے بم دھماکے ہوئے اور داؤد ابراہیم پوری طرح انڈر گراؤنڈ ہوگئے۔ لیکن بھارتی تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ وہ پاکستان میں ہیں اور کرکٹ سے ان کا رشتہ ختم نہیں ہوا ہے۔

اب انڈین پریمیئر لیگ کے سپاٹ فکسنگ کیس میں داؤد کو ہی اصل ملزم قرار دیا گیا ہے۔ انڈیا میں جب بھی کوئی بڑا کیس ہوتا ہے، چاہے ممبئی کے بم دھماکے ہوں یا فرضی کرنسی کی سمگلنگ یا پھر کسی فلم سٹار کو فون پر دھمکی دی گئی ہو، تو کہا جاتا ہے کہ ’اس کیس کے تار انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

لگتا ہے کہ گذشتہ 20 برسوں میں سرحد پار داؤد ابراہیم سے اب اتنے تار جڑ چکے ہیں کہ انہیں پاکستان کو بجلی سپلائی کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، علیحدہ لائن بچھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی! اس طرح داؤد ابراہیم سپاٹ فکسنگ کے علاوہ بھی ہند و پاک شراکت کی علامت بن سکتے ہیں۔

بدلتے چہرے

Image caption اب مودی کے مقابلے میں اڈوانی معتدل نظر آنے لگے ہیں!

گذشتہ چند دنوں میں دو انتخابی جائزے سامنے آئے ہیں۔ ان سے تاثر یہ ملتا ہے کہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔

یہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے لیے اچھی خبر ہونی چاہیے، لیکن ہے نہیں، کیونکہ خود بی جے پی کی حالت کچھ بہتر تو ہوگی لیکن اتنی نہیں کہ وہ تنہا حکومت بنا سکے۔

اگر یہ جائزے درست ہیں تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ نریندر مودی کی قیادت میں الیکشن لڑا جائے گا، بی جے پی کو کچھ نشستیں زیادہ ملیں گی۔ پھر بی جے پی کو اتحادیوں کی ضرورت پڑے گی جو نریندر مودی کی متنازع شخصیت کی وجہ سے نہیں ملیں گے۔ پارٹی کوایک نئے چہرے کی ضرورت ہوگی اور اب کہا جارہا ہےکہ وہ نیا چہرہ لال کرشن اڈوانی کا پرانا چہرہ بھی ہوسکتا ہے۔

اڈوانی پندرہ سال پہلے وزیرِاعظم بن سکتے تھے کیونکہ انہوں نے ہی پارٹی کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔ لیکن اس وقت انھیں کٹر رہنما مانا جاتا تھا اس لیے یہ ذمہ داری ’اعتدال پسند‘ اٹل بہاری واجپائی کو سونپی گئی۔ اب مودی کے مقابلے میں اڈوانی معتدل نظر آنے لگے ہیں!

نئے چہرے کے لیےاڈوانی نے لمبا انتظار کیا ہے، مودی کا انتظار ابھی شروع ہونا باقی ہے!

پہلے تولو پھر بولو

جے رام رمیش انڈیا میں دیہی ترقی کے وزیر ہیں۔ آنکھوں کے ایک طبی کیمپ کا افتتاح کرتے ہوئے انہوں کیمپ چلانے والی ڈاکٹر کے بارے میں کہا:’ ڈاکٹر بھارتی دیکھنے میں بھی تگڑی (بھاری بھرکم) ہیں اور کام بھی روڈ رولر کی طرح کرتی ہیں ۔۔۔ مجھے ان کے شوہر کےساتھ ہمدردی ہے، انہیں پدم وبھوشن سےنوازا جانا چاہیے!‘

بظاہر ڈاکٹر بھارتی نے ان کی بات کا بُرا نہیں مانا، شاید اس لیے کہ وہ سرکاری ملازم ہیں یا اس لیے کہ یہ آنکھوں کا کیمپ تھا!

ڈاکٹر بھارتی کے شوہر کا جواب تو معلوم نہیں لیکن جے رام رمیش کو یہ مشورہ ضرور دیا جاسکتا ہے کہ ’تول مول کے بول‘ (پہلے تولو پھر بولو) کا مطلب وہ نہیں ہے جو وہ سمجھ رہے ہیں!

اسی بارے میں