مودی سیاسی بحث کا محور ہیں

Image caption نریندر مودی نے جب سے بی جے پی کی انتخابی مہم کی کمان سنھبالی ہے تب سے وہ سیاسی توجہ کا محور ہیں

بھارت میں جیسے جیسے پارلیمانی انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں نریندر مودی سیاسی بحث کا محور بنتے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین چار عشروں میں شاید ہی بھارت کا کوئی عصری سیاسی رہنما اتنی شدت کے ساتھ بحث کا موضوع بنا ہوگا۔

اور شاید حالیہ تاریخ میں مودی پہلے ایسے رہنما ہیں جن کے لوگ یا تو سخت خلاف ہیں اور یا پھر زبردست حامی۔ یہ صورتحال خود ان کی اپنی جماعت کے اندر بھی موجود رہی ہے۔

گجرات کی سیاست سے نکل کر قومی سیاست میں مودی کی آمد نے بھارت کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

مودی کو بالواسطہ طور پر وزارت ‏عظمی کے لیے آگے لانے پر اڈوانی اور کئی اعلی رہنماؤں نے مخالفت کی لیکن اب سب مودی کی جے جے کار کر رہے ہیں۔

ہندو نظریاتی تنظیم آر ایس ایس جو مودی کے نام سے چڑھتی تھی اب یہ مانگ کر رہی ہے کہ مودی کو وزارت عظمی کا امیدوار ڈکلیر کیا جائے۔ وشو ہندو پریشد جیسی سخت گیر ہندو تنظیمیں جو مودی کے شخصی طرز حکومت سے نالاں تھیں اب مودی کو خدا کا روحانی تحفہ قرار دے رہی ہیں۔

یہ صورتحال ہے اس وقت کی جب مودی ابھی با ضابطہ طور پر انتخابی مہم میں نہیں اترے ہیں۔ کانگریس جو گجرات میں مودی کے آگے پوری طرح سرنگوں ہوچکی ہے اس وقت افراتفری کے عالم میں سر کے بل کھڑی ہے۔

منمموہن سنگھ کی حکومت کے بارے میں تو اب کوئی بات بھی نہیں کرتا اور کانگریس کے مستقبل کے رہنما راہل گاندھی آخری بار کوئی پانچ مہینے قبل کسی جگہ بولتے ہوئے دیکھےگئے تھے۔

ادھر پتہ نہیں کس دھن میں بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے اچانک بی جے پی سے اپنا اتحاد ختم کر لیا۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے یہ قدم اٹھا بیٹھے۔ اب ایسا لگ رہا ہے کہ مسلمان بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر لالو کی طرف جا رہے ہیں۔

خود لالو کی گردن بھی تلوار پر رکھی ہوئی ہے۔ اربوں روپے کے چارہ گھپلے کے ایک معاملے میں فیصلہ آنے والا ہے۔ اگر انہیں قصوروارپایا گیا تو انہیں جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ ان کے اور ان کی جماعت کے مستقبل کے لیے بھیانک ثابت ہو سکتا ہے۔ لالو سانس روکے بیٹھے ہیں۔

اتر پردیش میں نوجوان اکھلیش یادو سے لوگوں کو جتنی امیدیں تھیں اس سے بھی زیادہ شدت اور تیزی سے انہوں نے ان کی امیدوں پر پانی پھیرا ہے۔ مودی کی آمد سے ملائم سنگھ کے خیمے میں بھی بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ مودی کے خوف سے کہیں مسلمان کانگریس کی طرف نہ چلے جائیں اس لیے وہ اس وقت مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کی سیاست کے پرانے حربے پر واپس آگئے ہیں۔ عوام کا بھرم ان کی حکومت سے ٹوٹ رہا ہے۔

مارکسی پارٹیوں کی صورتحال ایسی ہے کہ ہر طرف فرعون ہی فرعون ہیں اور انہیں کسی موسی کا انتظار ہے۔ یہ جماعتیں اپنے فرسودہ نظریات کے ساتھ پورے جوش و خروش اور ڈسپلن کے ساتھ قطار بنائےخود کشی کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ تمل ناڈو کی جماعت ڈی ایم کے پر بد عنوانیوں کے اتنے الزامات ہیں کہ بد عنوانیوں کی تعریف بدلنی پڑی ہے۔

Image caption منموہن سنگھ کی حکومت کے بارے میں اب لوگ کم بات کرتے ہیں

یہ وہ حالات میں جن میں مودی جلد ہی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گے۔ مودی کی سیاسی بصیرت کیا ہے اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ گجرات میں انہوں نے کوئی غیر معمولی کام کیا ہو ایسی ایک بھی مثال نہیں ہے۔ ان کے دور میں گجرات میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہو ایسا ہرگز نہیں ہے۔انہوں نے ترقی کا کوئی متبادل ماڈل پیش کیا ہو ایسا بھی نہیں ہے۔ اس کے بر عکس مودی پر 2002 کے مسلم مخالف فسادات میں بلوائیوں کا ساتھ دینے کا الزام ہے۔

ان کے کئی وزرا اور پارٹی کارکنوں پر قتل اور بلوے کے الزامات ہیں۔ ان کی حکومت پرمتعد د فرضی انکاؤنٹرز کرانے کے الزامات ہیں۔ ان پر اپنی ہی جماعت کے دوسرے اعلی رہنماؤں کو برباد کرنے کا بھی الزام ہے۔

تو پھرآخر مودی کے نام پر اتنا طوفان کیوں برپا ہے۔ در اصل مودی کو جو بات خود اپنی جماعت اور دوسری جماعتوں سے الگ کرتی ہے وہ ان کا سیاسی استعارہ اور ان کا کام کرنے کا طریقہ ہے۔

سیاسی جماعتیں گھبرائی اس لیے ہیں کہ مودی کا استعارہ لوگوں کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے۔ مودی کی سیاسی اور انتظامی صلاحیت کا امتحان تو ابھی شروع بھی نہیں ہوا ہے۔ آئندہ پارلیمانی انتخاب چننے کا نہیں رد کرنے کا انتخاب ہوگا۔

اسی بارے میں