بھارتی میڈیا کا جنگی جنون

Image caption ’سرحد پر خونریزی دراندازی اور کشیدگی کا براہ راست تعلق امن کے عمل کو تباہ کرنے سے ہے۔‘

پچھلے دنوں کنٹرول لائن پر ایک بار پھر پرانا ماحول واپس لوٹا۔ متنازع سرحد پر چھوٹے موٹے واقعات تو ہر روز ہی ہوتے ہیں اور بیشتر واقعات میں تو کنٹرول لائن کے دونوں جانب آباد بدنصیب شہری ہی مارے جاتے ہیں۔

دور دراز کے علاقوں میں بسے ان انسانوں کی ہلاکت اور قتل پر کوئی ہنگامہ نہیں ہوتا اور نہ ہی میڈیا کو کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ کسی سے کوئی سوال نہیں پو چھا جاتا۔ ان کی موت اور مشکلات سے دنیا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے انتخابات کے دوران بھارت سے تعلقات بہتر بنانے پر زور دیا تھا۔ بھارت میں بھی حکومت کی جانب سے بات چیت کے لیے مثبت اشارے کیے جا رہے تھے۔

نواز شریف کی حکومت کے قیام کے بعد آئندہ مہینے سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز کیا جانا تھا۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر بھارت کے وزیرِ اعظم منموہن سنگھ اور نواز شریف کی ملاقات طے تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ٹوٹا ہوا سلسلہ شاید ایک بار پھر بحال ہونے والا ہے۔

لیکن پر امیدی کے اس ماحول میں پچھلے مہینے سے کنٹرول لائن اچانک متحرک ہو گئی۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہونے لگیں۔

بھارتی فوج نے جولائی سے اب تک 19 پاکستانی شدت پسند دراندازوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا۔ ان میں سے غالباً صرف چار کی لاشیں ملیں اور ان کے بارے میں کنٹرول لائن کے اس جانب یہ خبریں شائع ہوئیں کہ وہ سولین تھے اور انھیں بھارتی فوجیوں نے اغوا کر لیا تھا۔ان میں ایک کی عمر باسٹھ برس یا اس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ بھارتی میڈیا میں یہ خبریں شائع نہیں ہوئیں۔ یہاں سرحدیں تو صرف موت کے لیے ہیں۔

ابھی فضا میں کشیدگی کا ماحول بنا ہی ہوا تھا کہ اچانک چار بھارتی فوجیوں کو ہلاک کرنے کا واقعہ سامنے آیا ۔ وزیر دفاع نے پارلیمان میں اپنے غیر دانشمندانہ بیان سے ماحول اور بھی خراب کر دیا۔

بھارت کے میڈیا میں ایک طوفان برپا ہو گیا۔ وزیر دفاع کو اگلے روز پارلیمان میں ایک اور بیان دینا پڑا۔

اس بیان میں انھوں نے بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے لیے نہ صرف یہ کہ پاکستان پر الزام عائد کیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ یہ کارروائی پاکستانی فوج کی ایک خصوصی یونٹ نے کی ہے جس کے بعد حزب اختلاف نے حکومت سے کہا کہ وہ پاکستان سے ہر طرح کی بات چیت بندکر دے۔

میڈیا میں جنگ کا ہسٹریا شروع ہو گیا۔ ہر نیوز چینل پر ریٹائرڈ فوجی انتقام اور جنگ کی باتیں کرنے لگے۔ کئی چینل تو اس حد تک آگے چلے گئے کہ انھوں نے یہ بھی دکھایا کہ پاکستان کے بڑے بڑے شہروں کو بھارت کتنی دیر میں تباہ کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔

بھارتی میڈیا نے جنگ کا ایسا ماحول بنایا کہ ہر سیاست دان پاکستان سےانتقام لینے کی باتیں کرنے لگا۔ ہرطرف ایک کے بدلے دس پاکستانیوں کو ہلاک کرنے کی باتیں ہونے لگیں۔

حکومت اور حکمراں جماعت بھی اس میڈیائی ہسٹیریا کے دباؤ میں آ گئی۔ آئندہ مہینے مزاکرات شروع کرنے کا جو منصوبہ تھا وہ اب ختم ہو چکا ہے، نواز شریف اور منوہن سنگھ اگر نیو یارک میں ملاقات بھی کرتے ہیں تو وہ صرف اس بات چیت میں میڈیا کے جنون پر ہی شاید تبادلۂ خیال کریں گے۔

کنٹرول لائن پر جن لوگوں نے یہ کھیل شروع کیا تھا وہ ایک بار پھر بہت مؤثر طریقے سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس سال جنوری کے ابتدائی دنوں میں بھی اسی طرح کی صورت حال پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت کنٹرول لائن پر دو بھارتی فوجیوں کے سر قلم کرنے سے صورت حال خراب ہوئی تھی۔ اس وقت بھی مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔

سرحد پر خونریزی، دراندازی اور کشیدیگی کا براہ راست تعلق امن کے عمل کو تباہ کرنے سے ہے۔ کوئی تو ہے جو امن نہیں چاہتا۔

بھارت پاک کنٹرول لائن دنیا کی سب سے خطرناک سرحد ہے۔ دنیا میں دو ممالک کے درمیان ایسی کوئی بھی سرحد نہیں ہے جہاں ہر برس اتنی بڑی تعداد میں انسان مارے جاتے ہوں۔ کنٹرول لائن مسلسل متحرک ہے اور کسی جانب سےمعمولی سا اشتعال بھی کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن جاتا ہے۔

دنیا کی اس بدترین سرحد کے کھیل میں ابھی تک تو کچھ سخت گیر قسم کے سیاست دان اور کشیدیگی و جنگ و جدل کے حامی فوجی جنرل ہی شریک ہوا کرتے تھے۔ اب اس خطرناک کھیل میں میڈیا بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

تشویش کا پہلو یہ کہ میڈیا جنگ کا ہسٹیریا پیدا کر رہا ہے اور ملک کی سیاست اس کی زد میں آ رہی ہے۔

اسی بارے میں